مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 472 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 472

امام آپ نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔اس پر اس فرشتے نے آپ کو پکڑ لیا اور زور سے دبایا یہاں تک کہ آپ کو تکلیف ہوئی پھر چھوڑ کر آپ سے کہا پڑھئے۔آپ نے پھر فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔اس پر فرشتے نے دوبارہ آپ کو زور سے دبایا۔یہاں تک کہ آپ کو تکلیف ہوئی پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھیے۔آپ نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔پھر تیسری دفعہ اس فرشتہ نے آپ کو زور سے دیا یا۔پھر چھوڑ دیا اور کہا کہ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَى اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ (سوره علق: ۲ - ۶) یعنی اپنے رب کا نام لے کر پڑھو جیسں نے ہر چیز کو پیدا کیا۔انسان کو گوشت کی بوٹی سے پیدا کیا۔پڑھو ! اور تمہارا پر ور دگار یا اکرم کرنے والا ہے۔میں نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا۔اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جیسے وہ جانتا نہ تھا۔یہ کہ کہ فرشتہ غائب ہو گیا۔اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دل اس واقع کی ہیبت سے دھڑکنے لگا۔آپ غار حرا سے سیدھے حضرت خدیجہ ہے کے پاس واپس آئے۔اور کہا کہ مجھے کیل۔اوڑھا دو۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کمبل ڈال دیا۔یہاں تک کہ کچھ دیر بعد جب آپ کا دل ذرا ٹھہرا تو آپ نے حضرت خدیجہ سے سب حال بیان کیا۔اور کہا کہ میرا تو دم نکلنے لگا تھا۔اس پر حضرت خدیجہ نے عرض کیا کہ ایسانہ فرمائیے۔خدا کی قسم اللہ آپ کو کبھی پریشان نہیں کرے گا۔کیونکہ آپ کوشتہ داروں سے اچھا سلوک کرتے ہیں۔لوگوں کا بوجھ بٹاتے ہیں ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔جو اچھی باتیں اور لوگوں میں نہیں پائی جاتیں۔وہ آپ میں موجود ہیں۔آپ مہمان نواز ہیں۔امد تکالیف میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔اس کے بعد حضرت خدیجہ آپ کو لے کر اپنے چھاپ کے بیٹے درقرین توفل کے پاس پہنچیں۔یہ درقہ عیسائی ہو چکے تھے۔اور انجیل سے خوب واقف تھے۔اور اتنے عمر رسیدہ آدمی تھے کہ ان کی آنکھیں بھی جاتی رہی تھیں۔حضرت خدیجہ نے ان سے کہا۔کہ اسے