مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 361 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 361

دوسری سطر میں حروف مقطعات لکھتا ہوں۔حروف فاتحہ - اب ت ح د درس ص ض طرح ع ق ك ل م ن وی۔۳۰ حروف حروف مقطعات : 1 - ح ر س ص ط ع ق ک ل م ه ی ۱۳ حروف اس فہرست سے یہ معلوم ہوگا کہ تمام کے تمام حروف مقطعات فاتحہ میں موجود ہیں۔نیز یہ کہ سات حروف تہجی ایسے ہیں جو سورۃ فاتحہ میں موجود نہیں ہیں یعنی ث۔ج خ زش ظرف اگر خدا نخواستند این حروف میں سے ایک حرف بھی حروف مقطعات میں آجاتا تو میرا سارا دعوئے ہی باطل اور نہس نہس ہو کر رہ جاتا۔مگر میرے دھونے کی صحت پر یہ بھی ایک زبر دست قرینہ ہے کہ کوئی صرف بھی حروف مقطعات میں سے فاتحہ کے حروف سے باہر نہیں ہے۔حالانکہ کلی حروف تہجی ایسے ہیں جو فاتحہ میں پائے نہیں جاتے۔قرینه سوم تیسرا قرینہ ان مقطعات کے فاتحہ کی آیات ہونے کا یہ ہے کہ ہر مفسر کا قاعدہ ہے کہ وہ جب کسی آیت یا شعر یا عبارت کی تفسیر کرتا ہے۔تو اس کو بطور متن کے ضرور پہلے لکھ دیتا ہے۔پھر آگے اس کی تعبیر یا تفسیر مفصل کر کے لکھتا ہے۔یہی طریقہ مفسرین والا اللہ تعالیٰ نے بھی سورتوں میں اختیار کیا ہے یعنی پہلے بظاہر ایک بے معنی لفظ لکھا ہے۔پھر اس کے بعد ایک سورۃ بطور تغییر اس لفظ کے بیان کی ہے۔پس بظا ہر حالات ہر سورۃ جس پر مقطعات آئے ہیں۔اس مقطع کی تفسیر ہے جو اس کے سر یہ لکھا گیا ہے۔اور یہی دنیا کے جملہ مصنفوں کا طریقہ ہے۔خواہ کسی زبان اور کسی مضمون کے ہوں۔گویا مقطعات وہ ہینڈ نگ یا سرخیاں ہیں۔جن کی تفصیل یا تغییر ان سورتوں میں بیان ہوئی۔