مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 362
ہے۔اسی عالمگیر مروجہ اصول پر قرآن بھی چلتا ہے۔لیکن یہ بات کہ یہ سرخیاں الحمد کے ہی اجزاء ہیں۔اس طرح ثابت ہے کہ خود قرآن کے فرمودہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ یم اور حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوں کے ارشادات کے ماتحت سارا قرآن مجید خود سوره فاتحہ کی تفسیر ہے۔اور دوسری طرف موجب مروجہ طریقہ مفسرین بظاہر یہ بے معنی الفاظ اکثر سورتوں سے پہلے اس طرح لکھتے ہیں۔کہ گویا وہ سورتیں اپنی الفاظ کی تفسیر ہیں۔پیس ایک طرف قرآن فاتحہ کی تفسیر ہے۔دوسری طرف نظر آتا ہے کہ قرآنی سورتیں ان مقطعات کی تغییر ہیں۔لہذا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ مقطعات ہی خاتمہ ہیں۔کیونکہ جب ایک طرف یہ فرمایا گیا۔کہ قرآن فاتحہ کی تفسیر ہے۔دوسری طرف میں اپنی آنکھوں سے متلی اور رواجی طور سے نظر آتا ہے کہ قرآنی سورتیں ان مقطعات ہی کی تفسیر ہے تو لاز مایہ نتیجہ بر آمد ہوا کہ مقطعات کوئی الگ چیز نہیں بلکہ سورہ فاتحہ ہی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے تفسیر کی عرض سے قرآنی سورتوں یران مقطعات کی صورت میں پھیلا دیا گیا ہے۔قرآن فاتحہ کی تفسیر ہے ہماری جماعت کا یہ مشہور عقیدہ ہے کہ قرآن کا متن فاتحہ ہے۔اور باقی قرآن اس فاتحہ کی تفسیر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا ہے کہ فاتحہ ام الکتاب ہے یا اتم القرآن ہے اور صحایر میں ام القرآن کا لفظ فاتحہ کے لئے بکثرت راچی تھا۔اور یہ بات احادیث کی کتابوں سے ثابت ہے۔میں جب اس سورۃ کو قرآن کی ماں کیا گیا۔تو اس کے دوسرے معنے یہ ہوئے کہ قرآن اس کی تفسیر ہے اور یہ قرآن کا متن ہے علاوہ اس کے خود قرآن بھی فاتحہ کو متن قرآن کہتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔ولقد اتينك سبعا من المثاني والقران العظيمة (الجر: ٨٨)