مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 348
time ہیں اور اسی لئے قرآن مجید نے بھی زیادہ بری چیز کو پہلے رکھا ہے۔صرف ان کی اپنی سمجھ کا پھیر ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اونگھے نیند کی نسبت زیادہ بڑا نقص اور زیادہ بڑی چیز ہے۔کیونکہ از نگو نسبتاً زیادہ مضحکہ خیز اور زیادہ انسانی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔اور خود انسان کے لئے بھی زیادہ حقیر کن حالت ہے۔جیسے مثلا ایک آدمی سوتا ہے۔اور دوسرا بیٹھا ہوا اونگھ رہا ہو تو ہم پہلے کی بابت یہ کہ سکتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی اور ارادہ سے سورہا ہے۔مگر دوسرے شخص کے مضحکہ خیز جھٹکے۔اس کا زور زور سے جھومنا۔اس کا ادھر ادھر گرنا اور مجیب بیست گڑائی دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوشش کرتا ہے۔مگر اونگھ پر غالب نہیں آسکتا۔اور یا وجود ارادہ کے اونگھ سے مغلوب ہوتا جاتا ہے۔اونگھ اس سے کھیل رہی ہے۔وہ لاچار ہے۔اور اس کی حالت سہنسی کے قابل ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ اونگھ نیند سے زیادہ انسان کی کمزوری اور میر کو آشکارا کرتی ہے۔آدمی اس سے لڑتا ہے۔مگر وہ اس کا تماشا بناتی ہے۔کسی مجلس میں اونگھنے والے کی طرف دیکھو تو تعجب آتا ہے، اس کی اضطراری اور بے ڈھنگی حرکات کا ملاحظہ کرو تو بے اختیار منسی آجاتی ہے۔آنکھیں نیم دا ہیں جنکے پر جھٹکے لگ رہے ہیں۔کبھی آگے گرتا ہے کبھی پیچھے کبھی دائیں کبھی بائیں۔ہوشیار ہونے کی کوشش کرتا ہے مگر کامیاب نہیں ہوتا شکست خوردہ مغلوب ہے بقرض عجیب قابل مضحکہ نظارہ ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ مسجد اقطے میں کوئی جلسہ تھا۔ہم لوگ بیٹھے تھے اور حضرت اقدس مسیح موعود (آپ پر سلامتی ہو) لیکچر دے رہے تھے کہ مجلس میں ایک صاحب اونگھنے لگے کبھی وہ ایک طرف کے لوگوں پر جاپڑتے تھے کبھی دوسری طرف کے لوگوں پر آخر وہ یک دم اس طرح پیچھے گئے کہ ان کی ٹانگیں سامنے کے لوگوں کے کندھوں پر تھیں۔اور سر پچھلے آدمی کی گود ہیں اور دونوں ہاتھ بڑے زور سے دائیں اور بائیں طرف والے آدمیوں کے مونہہ پر لگے۔ساتھ ہی انہوں نے لیے اختیار ایک میچ بھی ماری۔اور مجلس کو درہم برہم کر دیا۔دیکھنے والوں کا یہ حال تھا کہ منشی کے مارتے ہوئے جاتے تھے مگر حضور کے پاس ادب سے دم بخود تھے۔یہ حفارت اور