مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 347
۳۴۶ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا لَوْم آيت الى آیتہ الکرسی) نہیں آتی اس کو اُونگھ اور نہ نیند (ترجمہ) (البقره (۳۵۶) قرآن مجید کا شاید ہی کوئی حقیہ ہو جس پر دشمنوں نے اعتراض نہ کیا ہو۔پس آیت الکر یمی جیسی مہتم بالشان آیت کس طرح ان کی زد سے باہر رہ سکتی تھی۔چنانچہ اس پر بھی اعتراض کہ دیا اور نقص یہ نکالا کہ یہ بات بلاغت کے بر خلاف ہے کہ اونگھ کا ذکر پہلے کیا جائے اور نیند کا بعد میں۔بلکہ یوں چاہیئے تھا کہ اسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھے۔کیونکہ جب کسی نقص کا اناله که نا مقصود ہو تو زیادہ بُری چیز کو پہلے رکھتے ہیں اور عبادت اس طرح ہونی چاہیئے تھی کہ خدا تعالیٰ میں نہ صرف یہ کہ نیند کا نقص اور کزوری نہیں ہے بلکہ نیند تو الگ رہی وہ تو اونگھتا تک بھی نہیں۔یہ کیا فضول بات ہے۔کہ اس کی تعریف میں یہ کہا جائے کہ تہ وہ چند منٹ غافل ہوتا ہے۔بلکہ رات بھر بھی نہیں سوتا صیح یوں ہوتا کہ نہ صرف وہ رات بھر نہیں ہوتا بلکہ چند منٹ کے لئے بھی غافل نہیں ہوتا۔یا یہ کہ نیند کیا اُسے تو اونگھ بھی نہیں آتی یہ خلاف اس کے آیت کے الفاظ میں اونگھ کو مقدم کیا ہے۔حالانکہ نیند کے لفظ کو مقدم کرنا اور زیادہ بڑی چیز کو پہلے رکھنا چاہیئے تھا۔یہاں اُلٹ کیوں ہے ؟ مجھے بھی ان کا یہ اعتراض کو کا کرنا تھا۔اور اس کے حل کے لئے کئی دفعہ میں نے غور کیا مگر سمجھ میں نہ آیا۔کہ آج یکم ذہن میں ایک جواب اس اعتراض کا سوجھ گیا اور میں نے مناسب سمجھا کہ اپنے احباب کو بھی اس تادیل سے خوش دقت کروں۔سو واضح ہو کہ معترضین کا یہ اصول ٹھیک ہے کہ زیادہ بڑے نقص کو پہلے رکھنا چاہیئے اور ہم ان کی دلیل کو مانتے