مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 349
۳۴۸ نسی کا نظارہ سونے والوں میں کبھی نہیں دیکھا جاتا۔اس طرح ایک اور صاحب تھے۔اُن کا اونگھتے اونگھتے اس زور سے فرش پر سر کرایا کہ سب لوگ پریشان ہو گئے۔اور وہ سخت شرمند اور چوٹ الگ لگی۔یہ سب باتیں نیند میں نہیں ہوتیں۔وہ بے شک ایک کمزوری اور فضلت کی صورت ہے۔مگر اس کے ساتھ ذلت مضحکہ خیزی اور شرمندگی وابستہ نہیں ہے۔پس کلام الہی نے بھی زیادہ بڑے نقص اور زیادہ بڑی چیز ہی کو اس آیت میں پہلے رکھا ہے۔اب اس روشنی میں اگر آپ آیت کی ترتیب کو دیکھیں گے۔تو وہ بالکل صحیح اور صاف اور بلیغ نظر آئے گی اور معترضین کا وسوسہ باطل ہو جائے گا۔اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ خدا تعالی جوہر عیب سے پاک اور ہر نقص سے منزہ ہے۔اسے نہ ذلیل اور اونی قسم کی نیند العینی اونگھ) آتی ہے۔نہ طبعی اور با عزت قسم کی۔فرض کیجئے کہ آپ اسلام کے سوا کسی اور مذہب کے خدا کا تصور باندھیں تو اپنے تخت پر پڑا سوتا ہے۔تو زیادہ سے زیادہ آپ ہی کہیں گے کہ یہ خدائی کے قابل نہیں کیونکہ اپنی مخلوق سے فاضل ہے۔مگر حقارت کا جذبہ آپ کے اندر پیدا نہیں ہوگا۔لیکن اگر اسی تصویر میں آپ ایسے وجود کو اُونگھتا دیکھ لیں تویقینا اس نظارہ کے بعد آپ اس سے سخت متنفر ہو جائیں گے۔بس یہ فرق سے نیند اور اُونگھ میں۔1950 اموزنامه الفضل قادیان ۱۹ دسمبر ۲)