مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 308 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 308

جواب :۔مہندی لگانے کا کوئی حکم اسلام نے نہیں دیا۔مرضی ہے کوئی لگائے یا نہ لگائے۔جہاں ہندوستانی عورت میں بہت سی اور عادات میں مبتلا ہیں یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔اصل میں تو یہ اس لئے لگائی جاتی تھی کہ گھر کے کام کاج اور برتن مانجھنے وغیرہ سے عورتوں کے ہاتھ اکثر میلے رہتے تھے اور باوجود صاف کرنے کے ان میں نرمی اور صفائی نہ آتی تھی اس لئے مہندی کا رواج ہو گیا کہ عیب ڈھک جائے اور مہندی کی سرخی میں ہاتھوں پر جو کام کاج کرنے سے سیاہی آجاتی ہے وہ مختفی ہو جائے۔لیکن کیا کہوں خدا شاعروں سے سمجھے انہوں نے اس مہندی کو جو ایک معمولی عیب پوش چیز تھی کہاں تک پہنچایا کہ آخر کار عاشقوں کا خون بن کر معشوقوں کے ہاتھوں اور پیروں میں اُسے جگہ ملی ! آج کل تو مہندی کا رواج ہی اڑنا جاتا ہے اور چند دن تک غالباً وہ فرید آباد کے بازاروں میں بھی دستیاب نہ ہو سکے گی۔پس آپ اس کے فتنہ سے نہ ڈریں۔اگر ایسا ہی ڈر ہے تو دستانے اور جرابیں حاضر ہیں۔ایسی عورتیں باہر نکلیں تو ان چیزوں کا استعمال کر سکتی ہیں۔سوال : پردہ صحت کے لئے مضر ہے۔جواب : بیشک بعض جگہ کا رواجی پردہ ممکن ہے کہ صحت کے لئے مصر ہو۔مگر شرعی پردہ تو ایسا نہیں ہے ، شرعی پردہ میں ہر عورت بازار میں جنگل میں باغ میں اور سفر پر جاسکتی ہے۔گھروں کے اندر کھلے منہ پھر سکتی ہے بس صحت کے لئے کسی جگہ بھی ضرر کی کوئی بات نہیں۔دوڑنا بھاگنا۔زنانہ کلب میں کھیل وغیرہ سب جائزہ ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت عائشریفہ کا دور کرتا ایک مشہور حدیث میں آیا ہے۔رہا یہ کہ یورد چین عورتوں کی طرح ان کی صحبت نہیں ہوتی اس کی وجوہات اور ہیں۔قومی آزادی حکومت دولت صحت کے قوانین پر چلتا۔اعلیٰ غذائیں وغیرہ اس کی وجوہات ہیں جو ہندوستانی عورتوں کا کیا ذکر مردوں کو بھی حاصل نہیں ہیں۔جہالت اغربت افلاس ادنیٰ