مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 309
٣٠٨ خوراک اندھیرے نمناک گھروں اور متعفن گلی کوچوں کی بدولت عورتیں ہی نہیں بلکہ ہندوستانی مرد بھی بکثرت ہلاک ہو رہے ہیں اور مرد عورتوں کی نسبت زیادہ ہلاک ہورہے ہیں۔کیونکہ غور سے دیکھو گے تو معلوم ہوگا کہ اوسطاً ہر بستی ہیں بیوہ عورتیں رنڈوے مردوں سے زیادہ تعداد میں پائی جائیں گی۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرد زیادہ مرتے ہیں نیبت عورتوں کے۔پس پردہ کی وجہ سے عورتوں کی ہلاکت محض ایک جھوٹا بہانہ ہے۔سوال :- پردہ عورتوں کے علم کے حاصل کرتے ہیں روک ہے ؟ جواب :۔یہ بھی غلط ہے۔جہاں ایسا رواجی پر دہ ہے کہ عورت اپنی آواز غیر مرد کو نہیں سنا سکتی اور مرد غیر محرم عورت سے بات چیت نہیں کر سکتا۔وہاں ممکن ہے کو اور غیر عور کر کہ علم حاصل کرنے میں وقت ہو مگر اسلام اس کا ذمہ دار نہیں۔اسلامی پردہ حالانکہ امہات المومنین کے لئے دیگر مومنات سے بہت زیادہ سخت تھا مگر علم حاصل کر نا تو الگ وہ تو سارے جہان کی معلمہ بنی ہوئی تھیں۔اور دُور دُور سے لوگ ان کے پاس دین حاصل کرتے آتے تھے۔پس یہ عذر آپ کا بالکل غلط ہے۔علیم کو پردہ سے تعلق نہیں۔پرائمری تعلیم لڑکیاں بلوغت سے پہلے حاصل کر سکتی ہیں۔اس سے زیادہ پڑھانا ہو تو ان کو وہ علم پڑھاؤ جو عورتوں کے مناسب حال ہوں۔باپ بھائی خاوند لڑکے اپنے گھروں میں علم کا چرچا قائم رکھ سکتے ہیں اور عورتوں کو بہت کچھ تعلیم دے سکتے ہیں۔گھر میں ہر مضمون کی مفید کتا ہیں مطالعہ کے لئے مہیا ہو سکتی ہیں۔قرآن اور دینی کتابیں مترجم مل سکتی ہیں۔باتی بی اسے یا مولوی فاضل یا ادیب فاضل بنانا کم از کم میری رائے میں بالکل لغویات ہے۔کیونکہ یہ ڈگریاں اور علوم مردوں کی روٹی کمانے کے لئے ہیں اور خدا نے عورت کو روٹی کمانے والے علوم پڑھنے کے لئے نہیں پیدا کیا۔بلکہ اس لئے کہ مرد سے کما کر کھلائے اور دہ گھر کا انتظام اور بچوں کی تربیت کرے۔اور ان کو نیک اور دیندار بنائے۔ان کو وہ علوم جن میں خانہ داری ، رنگ ، ابتدائی حفظان صحت بچوں کی نگرانی اور ان کا پالنا