مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 307 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 307

بارہ میں یہ کیوں کہا گیا ذالك ادنیٰ ان يُعرفن فلا یو ڈین یعنی جب وہ بھی یا ہر نکلیں گی تو جلباب ہی کی وجہ سے لوگوں کو آسانی سے معلوم ہو سکے گا کہ یہ کوئی مسلمان عورت رہے۔حالانکہ اگر چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت ہوتی تو لوگ جلباب سے نہیں بلکہ چہرہ سے ہی وراً پہچان لیتے کہ یہ قال ام المومنین ہیں ان کے لئے راستہ چھوڑ دو۔چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ ایک دفعہ باہر جارہی تھیں۔حضرت عمرة احبات الموستین کے اپنے گھروں سے باہر نکلنے کے ہمیشہ مخالف تھے۔انہوں نے ان کا ڈیل ڈول اور چال دیکھ کر آواز دی کہ اے سودہ ہم نے تم کو پہچان لیا۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا منہ نہیں کھلا تھا۔دو تہ عمر یہ ہرگز نہ کہتے کہ ہم نے تم کو پہچان لیا۔کا کسی شخص کو جو منہ کھولے سامنے ہو کوئی دوسرا شخص کہ سکتا ہے کہ ہم نے تم کو پہچان لیا۔یہ فقرہ اسی وقت بولا جاتا ہے جب دوسرے انسان کا چہرہ وغیرہ مخفی ہو۔سوال : جلبابی پردہ میں اگر منہ نہ کھلا ہو تو عورت چل کس طرح سکے گی اور بغیر نظر کے وہ رستہ کیونکر طے کرے گی ؟ جواب : یہ کس نے کہا ہے کہ آنکھیں بند کر کے چلے سینکڑوں ہزاروں چیادار عورتیں گھونگٹ نکال کہ بازاروں میں جاتی ہیں۔اسی طرح برقعہ کی جالی یا مصری طرز یا چادر کے نیچے دوپٹہ کا ایسا بلکل مارتا جس سے نیچے کا نصف چہرہ باپردہ ہو جاتا ہے۔راولپنڈی جہلم کے علاقہ کی عورتیں ایسا ئیکل مارتی ہیں کہ اوپر سے ماتھا بند ہو جاتا ہے اور نیچے سے نصف تاک تک۔صرف بیچ میں سے آنکھیں کھلی رہتی ہیں۔یا اگر یہ سب نا پسند ہوں تو خود کوئی نئی ایجاد کر لیں۔تاکہ عورتیں آپ کا احسان مانیں۔سوال : ہندی زینت ہے یا نہیں ؟ کیونکہ شنا ہے کہ مسلمان عورتوں کو مہندی لگانے کا حکم ہے۔پھر جب مجبوری سے ہاتھ باہر نکالیں گی تو ہر شخص کی نظر پڑے گی۔اور بقول آپ کے فتنہ پیدا ہو گا۔