مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 295
۲۹۴ مجھے افسوس ہے کہ باوجود واضح طور پر اظہار مطلب کے پھر بھی بعض احباب نے اس ایک اصلی نکتہ کو نہیں سمجھا جو میں نے اپنے پہلے مضمون میں بیان کیا ہے۔اور وہی ایک اصلی نکتہ ہے جس کے سمجھ لینے سے پھر یہ مضمون صاف ہو جاتا ہے۔مثلاً ایک دوست یہ مضمون پڑھ کر یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ * عورت جب باہر نکلے تو کیا اس کا منہ الاما ظهر منها میں نہیں آسکتا۔اس سوال سے معلوم ہوا کہ انہوں نے وہ بنیادی بات ہی نہیں کبھی جس پر میں نے اس مضمون کو قائم کیا ہے اور وہ بنیادی بات یہ ہے کہ خمر والا پردہ جس میں زینت اور الاماظهر منھا کا ذکر ہے وہ گھر سے باہر جانے والی عورت کے ساتھ قطعا کوئی تعلق ہی نہیں رکھتا۔پس یہ سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا۔اسی طرح ایک صاحب کہتے ہیں کہ یہ جب عورت باہر نکلے تو کیا کیا زینت چھپائے ؟ یہ سوال بھی غلط ہے کیونکہ زینت کا سوال بھی مجری پر دہ یعنی اس پردہ کے متعلق ہے جو گھروں کے اندر کرنا چاہیے نہ کہ جلبانی پردہ کے متعلق جو باہر نکلنے کا ہے۔اسی طرح ایک اور صاحب پوچھتے ہیں کہ : کیا عورتیں سر پر مفکر یاشال باندھ کر باہر نکل سکتی ہیں ہے کیونکہ مقلم بھی خمر میں داخل ہے اور شال یا مفلر میں منہ ضرور کھلا رہے گا۔میرا جواب پھر ہی ہوگا کہ مقلم با شال چونکہ فکر یا اوڑھنی کی جگہ استعمال ہو گا اس لئے وہ گھر سے باہر پردہ پر حاوی نہ ہوگا۔ہاں اگر گھروں میں اوڑھنا چاہیں تو وہ خمر کا قائم مقام ہو سکتا ہے بشرطیکہ ایسی طرز کا اور اتنا بڑا ہو کہ سینہ کے آگے بھی اس کا ایک حقہ پڑا ہے۔