مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 296 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 296

۲۹۵ میں پھر قارئین کرام کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ میں نے عام طور پر تین قسم کے پردے بیان کئے ہیں۔اب نہیں ان کا نام بھی رکھ دیتا ہوں :۔حجابی پرده، صرف امہات المومنین کے لئے اپنے گھروں کے اندر۔- جلبابی پردہ۔سب کے لئے گھروں سے باہر۔خمری ، پردہ۔سوائے اُمہات المومنین کے باقی سب مومنات کے لئے اپنے گھروں کے اندر جلبابی پرده جو عورتوں کو باہر نکلتے وقت کرنا چاہیے۔باہر نکلنے کے وقت کا صرف ایک ہی قسم کا پردہ ہے اور وہ جلبابی ہے۔اس میں کسی پیڑے کپڑے کے اوڑھ لینے کا حکم ہے اور چہرہ ضرور اس میں چھے گا۔کیونکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ عورتیں اپنے سارے بدن پر ایک بڑی چادر اوڑھ لیں اور اپنا سب کچھ ڈھک لیں۔مثلاً اگر سادہ چادر ہے تو گھونگٹ نکال نہیں۔اور اگر برقعہ ہو تو اس کا نقاب با جالی اس کے منہ کے آگے رہے جس سے راستہ معلوم رہے۔مگر اپنا منہ سامنے والوں کو نظر نہ آسکے۔پس اس پردہ میں یہ کوئی بحث ہی نہیں کہ کیا کہا زینت کھولی جائے اور کیا کیا باتیں الا ما ظهر منھا میں داخل نہیں اس پردہ کے حکم میں قطعاً ایسی کسی بات کی طرف اشارہ بھی نہیں۔تعجب ہے کہ لوگ بحث کرتے ہیں اس پردہ کے متعلق اور پیش کرتے ہیں وہ آیت جو گھروں کے اندر کے لباس اور پر وہ کے متعلق ہے۔جو قطعا ایک غیر متعلق بحث ہے۔جلبابی پردہ میں صرف ایک حکم ہے وہ یہ کہ عورت ایک بڑے کپڑے سے اپنا بدن ڈھک لے اور میں۔