مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 274 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 274

" دیباچه را و سلوک جو ماتنا خدا کو نہ ہو اس کو اے عزیز عقلی دیلین استی و باری کی دے سُنا اتنا وہ مان لے گا دلائل سے بالصور عالم کے کارخانہ کا اک چاہتے خُدا ال قدم یہ ہے کہ ہو ایمان بھی نصیب اس کے لیے کلام خدا کی مد بلا قرآن کی روشنی میں نظر آئے گا اسے موجود ہے وہ ذات جو ہے سب کے مبتدا مخلوق بن گئی ہے وہ کہتا ہے خود بخود بے شل جو کلام ہے وہ کیونکر خود بنا ؟ انسان غیب دانی سے عاری ہے گر تو پھر صدیوں کے غیب کا اُسے کیو کر پتہ لگا ؟ تازہ نشان حضرت مہدی کے پیش کر مومن کو معرفت کی ذرا چاشنی چکھا سارا جہاں ہو جس کا مخالف وہ کس طرح غالب ہر ایک جنگ میں ہوتا ہے برملا اب آگے ہے یقین کا درجہ مرے عزیز ذاتی مشاہدہ سے خدا کا ملے پتا یعنی کہ یہ اس سے کہ اب آگیا ہے وقت گر اصل چاہتے ہو تو خود کو کرد فنا "جو خاک میں ملے اُسے ملتا ہے آشنا اسے آزمانے والے یہ نسخہ بھی آزما نجار دل ۱۳۱۰)