مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 233
۲۳۲ نبی پر ایمان لائے تھے ، مگر عمر نے وفا نہ کی اور جلد ہی فوت ہو گئے ، بعض کے اعمال صالحہ تو محض صفر ہی تھے۔ایسے لوگوں کا فیصلہ بارگا الہی سے اس آیت کے ماتحت کیا گیا۔إِنَّا لَطْمَعُ أنْ يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطِينَا أَنْ كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ (الشعراء:۵۲) توجہ دہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہمارے گناہ اس وجہ سے معاف کر دے گا کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے بن گئے۔یعنی یہ چونکہ شروع میں ہی نبی کو مان گئے تھے ، اس لئے ان کا السابقون الاولون میں ہونا ہی ان کی مغفرت کے لئے کافی ہے، خواہ مسلمان ہو کر ایک عمل بھی نیک نہ کیا ہو۔(A) یہاں سے ہم اور آگے بڑھے ، تو دیکھا کہ وہاں حضرت یعقوب کی اولاد اپنی میزان پر سے نجات پا کہ آرہی تھی۔اور ان کی نجات کا باعث دعائے بزرگان تھی ، یعنی ان کے باپ کی وہ دعائیں جو ان کی درخواست يابانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَطِينَ (يوسف (۹۰) ترجمه داے ہمارے باپ ! آپ ہمارے حق میں (خدا سے) ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کریں۔ہم یقینا خطا کار ہیں۔کے جواب میں بوعده اسْتَغْفِرُ لَكُم رَى إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (يوسف : ٩٩) ترجمه دریک ، ضرور تمھارے لیے اپنے رب سے بخشش طلب کروں گا یقیناً کی گئی تھی۔رہی رہے جو بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔