مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 232 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 232

٢٣١ (۵) اور آگے چلا تو دیکھا کہ ایک عورت کھڑی رو رہی ہے ، اس کا اعمال نامہ بدکاری سے بھرا پڑا ہے ، ایک یاکسی اور نا امیدی اس پر طاری ہے، آواز آئی کہ اس فاسقہ و قاجرہ عورت نے کوئی پسندیدہ عمل بھی کیا ہے ؟ " کو انا کا نہین میں سے ایک بولا کہ حضور ! ایک دن یہ جنگل میں سفر کر رہی تھی اور ایک کتا پیاس کے مارے زبان لٹکائے کنویں کے کنارے ہانپ رہا تھا۔یہ اس کنویں میں اتری ، آپ پانی پیا، پھر اپنی جوتی میں پانی بھر کر سامنے لائی اور کہتے کو پلایا۔ارشاد ہوا ہم نکتہ نواز ہیں ، ہمیں اس کا یہ عمل اتنا پسند آیا تھا کہ ہم نے اسی وقت اسے بخش دینے کا عہد کر لیا تھا، اب ہماری مغفرت کی چادر اس پر ڈال دو۔اور جہاں جانا چاہتی ہے اسے لے جاؤ۔(4) پھر آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شوری بر پا ہے۔ایک عاجز گنہگار ہے اور پاس ہی ایک مرصع نیکو کار۔اس گنہگار کی بد اعمالیاں دیکھ کر وہ نیکو کار کہنے لگا کہ خدا کی استجھے خدا کبھی نہیں سنتے گا۔اس بات پر حاضرین میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔اور قسم بعض لوگ کہنے لگے کہ یہ مولانا سے فرماتے ہیں، یہ شخص ایسا ہی ہے۔بارگاہ الہی کی طرف سے ارشاد ہوا کہ اے شخص تو کون ہے میری مغفرت پر قسم کھانے والا ؟ جاؤ، ہم نے اسے تو بخش دیا اور تیری بابت فیصلہ بعد میں صادر ہو گا۔اور دو شخص ہنتا کودتا بہشت کے دروازے کی طرف بھاگا۔(<) اسی طرح پھر ایک گروہ میں بعض آدمیوں کا حساب کتاب ہو رہا رہا تھا۔یہ لوگ مومن تو تھے مگر ان کے اعمال نامے نیکیوں سے خالی تھے ، کیونکہ گو وہ اپنے وقت کے