مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 234
۲۳۳ (۹) ایک جگہ دیکھا کہ چند شخص اپنے گناہوں کی مصیبت میں گرفتار ہیں اور نجات کی شکل صورت نظر نہیں آتی ہے۔حکم ہوا کہ اچھا بتاؤ کہ اس دائیں طرف والے کا جنازہ کس کس نے پڑھا تھا ؟ معلوم ہوا کہ چالیس موحد مسلمان اس کے جنازہ میں شریک تھے۔ارشاد ہوا کہ مالک ! اسے چھوڑ دے، ہم نے ان چالیس مومنوں کی شفاعت جو انہوں نے نماز جنازہ میں اس کے لئے کی تھی قبول کر لی۔پھر بائیں طرف دالے کی باری آئی تو معلوم ہوا کہ اس کے مرنے کے بعد اس شہر کے اکثر اہل اللہ نے اسے نیکی سے یاد کیا تھا اور تعریف کی تھی کہ اچھا مسلمان آدمی تھا۔فرمایا ان کی تعریف کی وجہ سے اسے بھی چھوڑ دو۔پھر تیسرے کے بارے میں سوال پیدا ہوا کہ اس کا کیا حال ہے ہے فرشتوں نے عرض کیا کہ صرف دو مومن تھے جو اسے مرنے کے بعد نیک اور اچھا کہتے تھے۔ارشاد ہوا کہ چلو اسے بھی جانے دو۔چوتھے گنہگار کی بخشش اس لئے ہو گئی کہ اس کے جنازہ میں تین صفیں مسلمانوں کی تھیں۔پھر اور آگے چلے تو دیکھا کہ ایک گنہگار مسلمان اس لئے رہائی پا گیا کہ اس کے تین بچے اس کی زندگی ہی میں فوت ہو گئے تھے۔دی گئی۔اور ایک مومن عورت صرف ایک بچہ کی موت کا صدمہ اٹھانے کی وجہ سے خیش ایک میاں بیوی نظر آئے ، ان کا حساب کتاب ہو رہا تھا ، اتنے میں ایک دو برسی کا بچہ دوڑتا ہوا کہیں سے آگیا اور کہنے لگا کہ یہ میرا باپ ہے اور یہ میری ماں ہیں جنت میں نہیں جاؤں گا جب تک ان دونوں کو ساتھ نہ لے جاؤں۔1