مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 231 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 231

٢٣٠ (۲) جب ہم آگے بڑھے تو اسی طرح کا ایک اور گنہگار اپنی قسمت کو رورہا تھا۔حکم ہوا کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر کتنے مومنین نے دعائے مغفرت کی ہے ؟ جب اس کا حساب لگایا گیا اور وہ دعائیں جو محض نا واقف راہ گزروں نے اس کی قبریم کی تھی، وزن کی گئیں، تو وہ بھی کر دتا پھاند تا مغفرت کے ملائیکہ کی گود میں میٹھے کہ وہاں سے رخصت ہوا۔(۳) آگے چلے تو ایک اور گنہگارکشی اعمال صالحہ کی وجہ سے متاسف کھڑا تھا جحکم ہوا کہ میں جس شخص نے کسی قسم کی حق تلفی اس کی کی ہے یا اس کی غیبت دوغیرہ کی ہے۔ان لوگوں کی نیکیاں ان حق تلفیوں اور غیبتوں کے عوض اسے دے دو۔میں نے دیکھا کہ اوروں کی ہزاروں نیکیاں اس طرح اس شخص کے حصے میں آگئیں اور وہ بخشا گیا۔(۴) ذرا اور آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک شخص وہاں بھی مالک کے پنجے میں گرفتار ہے۔آواز آئی کہ یہ تو فلاں کتاب کا مصنف ہے جس کی وجہ سے کئی نسلوں نے نیکی اور اسلام سیکھا ہے۔پس اس کتاب کے پڑھنے کی وجہ سے ہر نیکی کرنے والا نہ صرف نیکی کا ایک اجر خود پائے گا بلکہ اتنا ہی اجر مصنف کو بھی ملے گا۔حساب کتاب کیا گیا تو ایک لا انتها خزانہ باقیات الصالحات کا اس مصنف کے قبضہ میں آگیا۔مالک نے اپنی گرفت ڈھیلی کر دی اور رضوان کا اسسٹنٹ اسے لے کہ اپنے ہاں چلا گیا۔