مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 196 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 196

۱۹۵ کے بر خلاف نہیں کیا۔نیز یہ معلوم ہونا چاہیے۔کہ اگر خدا کی ہر تقدیر کو سُنت اللہ کا نام دے دیا جائے تو بعض آیات میں نہیں بہت مشکل پڑے گی۔مثلاً سورۃ علق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کو ہم نے دو آنکھیں ، ایک زبان اور دو ہونٹ دیئے۔اگر یہ سنت اللہ مان لی جائے تو نہیں یہ مشکل ہوگی۔ہر وہ انسان جس کی دو آنکھیں نہ ہوں۔اس کو انسانوں کی جماعت سے خارج کر نا پڑے گا۔پس یہاں ہم کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی عام تقدیر یہی ہے۔اور اس میں استثناء ہو بھی سکتا ہے۔کثرت پر اس کا اثر ہے۔اگر یہ سنت اللہ ہوتی تو پھر اس میں استثناء کی گنجائش نہ ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے بیان کے وقت اس کی یہ تعریف کی ہے۔کہ سُنت اللہ میں تبدیل اور تحویل نہیں ہوا کرتی۔ہاں تقدیر الہی مستعد و الگ الگ طریقوں سے ایک ہی بات میں ظاہر ہو سکتی ہے اور وہ بکثرت تبدیل بھی ہوتی رہتی ہے۔آخری بھی یاد رکھا چاہیے کہ جسے عام لوگ قانون قدرت کہتے ہیں اس کو تقدیر الہلی بھی کہا جاتا ہے۔نہ کہ سُنت اللہ۔الفضل ۲۰ نومبر ۱۹۲۳م)