مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 195 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 195

۱۹۴ جس میں سوائے ایک کے باقی سب راستے بند کئے ہوئے ہیں۔جیسا کہ اوپر بطور نمونہ چند باتیں بیان کی گئی ہیں۔میں یہ یا ایسی ہی اور بعض عادات الہی سنتہ اللہ کہلاتی ہیں۔اور وہ تھوڑی ہیں۔باقی جس قدر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی تقدیریں یا کام بغیر ایسی تحدی کے بیان کئے ہیں۔ان کو سنہ اللہ کا نام نہیں دینا چاہیے۔ان کاموں کو وہ ہزاروں طریقوں اور عجیب در عجیب تقدیروں اور اندازوں سے کرتا ہے۔وہ اکثر اگ سے جلاتا ہے۔مگر کبھی اس کی اس خاصیت کو سلب کر لیتا ہے۔اکثر انسان کو جوڑے سے پیدا کرتا ہے۔مگر گاہے گاہے صرف ماں کے ذریعہ سے بھی اس کو پیدا کر دیتا ہے ہمیشہ ایک ہی طریق پر اپنی صفات دکھانے کا پابند نہیں۔کیونکہ اس کی طاقیتں غیر محدود ہیں۔ہاں چند محدود امور میں اس نے یہ پابندی اپنے لئے خود مقرر کر لی ہے۔کہ فلاں کام میری سنت ہے اور وہ اس عالم میں غیر متبدل اور غیر متحول رہے گی۔مگر یہ پابندی کسی زید یکہ یاکسی نیچری کی ڈالی ہوئی پابندی نہیں۔بلکہ خود خدا نے ہی اپنے لئے ایسا تجویز کیا ہے پس ہم کو قدرت کے ہر امر کے لئے سنت اللہ کے الفاظ نہیں بولنے چاہئیں۔ور نہ ہم خدا کی قدرتوں کو محصورا اور اس کی لا انتہا طاقتوں کو محدود کر دیں گے۔بلکہ کسی بات کو سنت اللہ کہنے کے لئے نہیں تین شرطوں کا پابند ہونا پڑے گا۔ا۔ایک تو یہ کہ خدا تعالیٰ نے خود اپنی عادت اپنے کلام میں کسی امر کے متعلق ایسی ہی بیان کی ہو۔نہ یہ کہ کسی انسان نے اس کے لئے تجویز کی ہو۔دوسرے یہ کہ نہایت متحدیانہ واضح غیرمشتبہ پر شوکت او قطعی الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہو کہ الفاظ سے ہی معلوم ہو جائے کہ یہ اس کی عادت بلا استثناء غیر متبدل اور حتی ہے۔تیسرے یہ کہ میں بھی جہاں تک خدا کی شفت کا علم اس کے اپنے کام اور تاریخ اور مشاہد ہ سے حاصل ہوا ہو۔وہ بھی اس بات کی تائید کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی اس