مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 197 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 197

۱۹۷ ذکرالہی خدا کے ذکر سے ذاکر کی روح زندہ رہتی ہے۔خدا تعالیٰ اس کی دعائیں قبول کرتا ہے اور اُسے معزز و کریم بناتا ہے۔اس کے گناہ بخشتا ہے۔خدا کی محبت اُسے حاصل ہوتی ہے۔اللہ تعالی اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔اور خود اس کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے محبت بڑھتی جاتی ہے اور ملائکہ سے تعلق پیدا ہوتا ہے۔ذکر کی قسمیں ذکر کی قسمیں بہت ہیں مثلاً دُعا بھی ذکر ہے اور دعا میں استغفار بھی شامل ہے۔تعود بھی وکا ہے۔درود شریف بھی دُعا ہے۔مگر میں اس قسم کا ذکر یہاں نہیں کروں گا۔اسی طرح نماز اور قرآن پڑھنا بھی اعلیٰ ترین اذکار میں داخل ہیں۔مگر یہاں ان کا ذکر بھی نہیں ہوگا۔سب سے بڑا ذکر انسان کے لئے خدا تعالیٰ کی صفات کا بیان کرنا ہے۔پہلے یہ کہ وہ ہے۔پھر یہ کہ وہ اکیلا ہے۔ازلی ابدی ہے۔پھر یہ کہ کس طرح وہ کارخانہ عالم چلاتا ہے۔پیدا کرتا ہے۔ربوبیت کرتا ہے ماتم کرتا ہے، انصاف کرتا ہے، ہر چیز پر کامل حکمرانی اسی کے لئے ہے پکامل علیم اور کامل قدرت اُسی کے شایاں ہے ، غرض بے حد صفات اس ذات پاک کی دنیا میں ہمارے ذکرہ اور فکر کے لئے ہیں۔اور یہی ذکر اعلیٰ درجہ کے لوگوں صاحب عقل انسانوں اور صاحب علم و معرفت بندگوں کے مناسب حال ہے۔پہلے یہ اصحاب صفات الہلی میں فکر کرتے ہیں۔پھر پلک میں ہندیعہ تحریر و تقریران باتوں کا ذکر پھیلتا ہے۔اس جگہ میں اس قسم کے ذکر وفکر کا بیان بھی نہیں کروں گا۔کیونکہ یہ ایک لا انتہا سمندر ہے اور اس کے اصل خواص انبیاء علیہم السلام ہیں۔