مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 194
١٩٣ ہی غالب ہوں گے۔اسی طرح یہ بات کہ رسولوں کے علاوہ کسی کو ہر گنہ سرگتہ اظہار علی الغیب معینی کثرت سے غیب کا علم نہیں دیا جاتا۔یہ بھی ایک شنفتہ اللہ ہے۔اور ان پر شوکت الفاظ میں اس کا ذکر ہے فَلَا يُظهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَعَى مِنْ رَسُولٍ رالجن : ۲۸،۲۷) ترجمہ ، اور وہ اپنے غیب پر کسی کو غالب نہیں کرتا سوائے ایسے رسول کے جس کو وہ اس کام کے لئے پسند کر لیتا ہے۔بعض جگہ تو اللہ تعالیٰ ایسی متحد یا نہ بات کے بعد خود ہی فرما دیتا ہے۔کہ یہ ہماری گفت ہے۔اس لئے غیر متبدل ہے۔مثلاً یہ کہ جب کوئی نبی وطن سے نکالا جاتا ہے۔تو تھوڑی مدت کے بعد ہی اس شہر پر عذاب الہی نازل ہوتا ہے۔اور یہ خدا تعالیٰ کی دائمی سنت ہے۔اسی طرح یہ کہ خدا کے بنی اس کے سب محکموں کو مانتے ہیں۔اور ان پر عمل کرتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔اسی طرح منافق اور بنی کے بدخواہ اس کے شہر سے نکال دیئے جاتے ہیں۔اور ان کو کہیں بھی چین نہیں ملا کہتا۔اسی طرح جب کفار پہ بعذاب نازل ہونا شروع ہوتا ہے۔تو پھر خواہ وہ تو یہ بھی کریں وہ عذاب واپس نہیں کیا جاتا پھر ایک سنت اللہ یہ ہے کہ جب مومن خدا کے حکم کے ماتخت جہاد کرتے ہیں۔تو مقابلہ پر کفار ہمیشہ شکست ہی کھاتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کبھی پیچھے مسلمانوں کے معاندین کی مدد نہیں کرتا۔اور کیشان مخالفین پر عذاب الہی نازل ہوتا ہے۔اب یہ سب آیات دیکھ لو۔اور قرآن مجید میں جو باتیں سفتہ اللہ کہہ کر بیان کی گئی ہیں۔ان پر بھی روشنی ڈال کر دیکھ لو کہ سنہ اللہ ہمیشہ غیر متبدل ہوتی ہے۔ورنہ امان اُٹھ جاتا ہے۔اور جھوٹ اور پیسے میں تمیز نہیں رہتی۔اور وہ اس تھری سے بیان کی جاتی ہے کہ سوائے اس کے چارہ نہیں رہتا۔کہ وہ ایسا محکم مضبوط بیان خود خدا کی طرف سے ہے۔