مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 193
۱۹۲ خلاف کبھی اللہ تعالیٰ کی کوئی اور عادت ثابت ہے۔کیونکہ منت اللہ موجب کلام اہلی کے خود اللہ تعالیٰ کی طرح ایک غیر متبدل چیز ہے۔کسی بات کو سنت اللہ ثابت کرنے کے لئے یہ کافی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اپنے کلام میں اس کی بابت صرف اتنا کہ پایا جائے۔کہ میں ایسا کیا کرتا ہوں۔چنانچہ صرف یہ آیت پیش کرتے سے کہ خدا تعالیٰ ماں باپ سے انسانی بچہ پیدا کرتا ہے۔یہ بات سنہ اللہ نہیں کہلائے گی۔سنہ اللہ یہ اس وقت کہلاتی جب تحدی کے ساتھ اور حتمی طور پر یہ ذکر ہوتا۔کہ آدم کے بعد پھر خدا تعالیٰ ہر گیا کبھی اس دنیا میں انسان کو سوائے ماں باپ کے ملنے کے اور کسی طریق سے پیدا نہیں کرے گا۔کیونکہ سُنت اللہ ہمیشہ متحد یا نہ الفاظ میں بیان کی جاتی ہے۔مثلا مردوں کے دنیا میں واپس نہ آنے کی بابت جو قانون ہے وہ سنت اللہ کے درجہ کو پہنچا ہوا ہے۔کیونکہ وہ ان زور دار الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔وحرم على قرية أهلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (الانيا (٩٦) یعنی ہم نے قطعی حرام کر دیا ہے کہ جو لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔وہ ہر گز ہر گز اس دنیا میں کبھی واپس نہیں آئیں گے۔اسی طرح آسمان پر کسی میشر کے نہ جاسکنے کی بابت جو فرمان ہے وہ بھی ایک مفتہ اللہ ہے۔کیونکہ وہ یہ تحدی تمام بیان کرتا ہے کہ قُل سُبْحَانَ رَبِّي هَل كُنتُ إِلَّا بَشرا رسُولو ربنی اسرائیل (۹۲) ترجمه ، تور انھیں) کہہ (کہ) میرا رب (ایسی بے ہودہ باتوں کے اختیار کرنے سے) پاک ہے۔میں (تو) صرف بشر رسول ہوں (آسمان پر نہیں جاسکتا)۔(90 اسی طرح رسولوں کے غلبہ کے متعلق اللہ تعالیٰ اپنی منت ان تاکیدی الفاظ میں فرماتا ہے۔كتب الله لاغلِبَنَّ انَا وَرُسُلِي (المجادله (۲۲) یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ اپنے ذمہ فرض قرار دے لیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہمیشہ