مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 145 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 145

۱۴۴ وہ ساری کائنات کا رب ہمارا پیدا کر نے والا۔پالنے والا اور درجہ بدرجہ ترقی دینے والا ہے اور وہ ساری مخلوقات پر بے انتہا رحم کرنے والا اور نہایت ہی مہربان ہے۔آپ نے ایک تمثیلہ لکھا۔اس میں آپ نے ایک عیسائی۔ایک آریہ اور ایک مولوی کی زبان سے اللہ تعالیٰ کا وہ تصویر پیش کیا جو وہ اپنے عقیدہ کے مطابق رکھتے ہیں۔اس کے بعد ایک احمدی میشر کا جو تصور خدا ہے اسے بیان کرتے ہیں۔ایک مجلس قائم ہے اور سوال یہ درپیش ہے کہ خدا کیسا ہے ؟ جب سب لوگ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق اپنا تصور بیان کر چکتے ہیں تو ایک احمدی مبشر کی زبان سے سہستی باری تعالیٰ کا تصور بیان ہوتا ہے۔چنانچہ تحریر فرماتے ہیں :- اس کے بعد ایک سبز عمامہ پوش نوجوان اُٹھا اور اس نے کہا ئیں تو اس کا قائل ہوں جو بے شک صاحب عظمت و جلال ہے۔بے شک ليس كمثله شيئ ہے۔بے شک انزلی وایدی ہے۔بے شک دراء الوراء ہے۔بے شک ہمہ علم ہمہ قدرت ہے۔مگر ساتھ ہی وہ ہمہ تن شفقت ہمہ تن عشق وفا۔ہمہ تن غریب نوازی اور هہمہ تن بندہ پروری ہے۔ہمہ تن قدرت دانی بھی ہے۔میری حالت سے پورا با خبر ہے۔میری دُعاؤں کو سُنتا ہے اور قبول کرتا ہے اور میری تربیت کرتا ہے۔تکالیف کے وقت میری تسلی کر تا ہے۔بیماری میں میرا علاج کرتا ہے۔عرض ایسے ہی وہ دل نشین انداز میں مہستی باری تعالیٰ کا تعارف کراتے چلے جاتے ہیں۔آپ کے مضامین سدا بہار گلستان علم و عرفان ہیں۔آپ جب بھی پڑھیں گے خواہ بار بار ہی کیوں نہ پڑھیں ایک تازہ ہی لطف اس سے میسر ہوگا اور روحانیت ایک نئی بیداری حاصل کیے گی۔