مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 99 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 99

۹۸ کا تعلق یگانگت اور شفقت اور محبت میں تبدیل ہو گیا تھا۔اور اس پاک وجود نے دُوئی کے تمام پردوں کو چاک کر کے رکھ دیا تھا۔آپ بلا تکلف بلا احساس غیر بیت نہایت ہی اعلی درجہ کے مشفقانہ اور برادرانہ رنگ میں بندہ کے مکان پر تشریف لاتے گھر ملو قسم کے ادنی اونی معاملات پر گفتگو فرماتے اور ہر چھوٹے بڑے امرمیں پچسپی لیتے آپ کی ذات میں میں نے بہترین قسم کا ساتھی۔ہر کام کا عمدہ مشیر اور ہم غم میں بہترین غم گسار پایا۔میرے لڑکے عزیزم عبدالرحمن کی بیماری میں اکثرآ کر گھنٹوں بیٹھتے اس کی چھوٹی چھوٹی بیماری سے متعلقہ باتوں کو نہایت سکون اور دلجمعی سے سننے اور موقع اور محل کے مطابق بیماری کے تمام خدشات کو اس کے دل و دماغ کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنے نہایت فصیح اور محبت بھرے الفاظ سے مٹا ڈالتے۔مریض کے لئے اس سے بڑھ کرہ اور کون سا علاج کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔کہ ایک مشفق اور مہربان ڈاکٹر اس کے تفکرات کا لیکلی خاتمہ کر دے۔آپ نے میرے نہایت پریشان کن لمحات میں ایک ہمدر و غمگسار کی طرح ساتھ دیا۔بندہ کی اہلیہ کی بینائی بوجہ موتیا بند کے دونوں آنکھوں سے جاتی رہی تھی۔اور ان کا اصرار تھا کہ حضرت میر صاحب کے سوا کسی دوسرے سے آنکھیں نہ بنواؤں گی۔حضرت میر صاحب کی طبیعت کمزور تھی۔جراحی کے تمام کام بوجہ نا سازی طبیع بند تھے۔دیگر اطہار کا بھی مشورہ تھا کہ لاہور میں یا امرتسر میں کسی بڑے ہسپتال میں آپریشن کروایا جائے۔غرض ایک طرف بندہ کی اہلیہ کا اصرار دوسری طرف حضرت میر صاحب کی ناسازی طبع کی وجہ سے مجبوری میرے لئے حیران کن ثابت ہو رہی تھی۔آخر ان حالات میں اپنے محسن سے میں نے اپنی اہلیہ کی اس خواہش کا اظہار کیا۔آپ بلا تامل عمل جراحی کے لئے تیار ہو گئے۔بس میری کل پریشانی اور حیرانی دور ہوئی اور ان کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے میری بیوی کی آنکھوں کو شفا عطا کی۔یہ تھا آپ کے اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا وہ نمونہ جو آپ ایک کمتر سایہ