مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 100
۹۹ کے لئے روار کھتے تھے۔نہ صرف بندہ بلکہ بندہ کے بچوں کے جذبات اور احساسات کا انتہائی خیال تھا۔ان کی زندگی کے آخری ایام کا ایک واقعہ ہے جو بظاہر تو بالکل معمولی نظر آتا ہے۔لیکن آپ کے احسانات کے کرشموں میں سے ایک بہت بڑا کرشمہ ہے۔میرے لڑکے عبدالرحیم نے پہاڑ پر جاتے جاتے بغیر گھوڑے کے ٹانگہ ان کے باغ میں ان کی بلا اطلاح حفاظت کی خاطر کھڑا کر وا دیا۔آپ نے جب ایک ٹانگہ اپنے باغ میں کھڑا ہوا دیکھا تو اپنے نوکر کو تاکیدی حکم دیا کہ اس ٹانگہ کو فوراً باغ سے باہر نکال دو لیکن جونہی آپ کو یہ اطلاع ہوئی کہ یہ عبدالرحیم کا ٹانگہ ہے تو آپ نے فوراً اپنا حکم واپس لیتے ہوئے نوکر کو تاکید فرمائی کہ اس بات کا عبدالرحیم کو علم بھی نہ ہونے پائے کہ میں نے ان کے ٹانگے کو اپنے باغ سے باہر نکالنے کے لئے کہا تھا۔بندہ کو علمی رنگ میں بھی آپ سے دو دفعہ خصوصیت کے ساتھ استفاضہ حاصل کرنے کا موقعہ پیش آیا۔دو مضمونوں کی تیاری کے لئے میں نے آپ سے امداد چاہی۔آپ نے نہ صرف بغیر سوچنے کے ان مضمونوں کے لئے مجھے ضروری مصالح بہم پہنچا دیا۔گویا ان مضمون کے متعلق تمام معلومات پہلے ہی سے ان کے دماغ میں موجود تھیں بلکہ جو مصالح انہوں نے بہم پہنچایا۔وہ صرف عام باتوں پر مشتمل نہیں تھا۔بلکہ نہایت ہی قیمتی اور نادر نکات پرمشتمل تھا۔مثال کے طور پر میں صرف ان کا ایک نکتہ بیان کرتا ہوں جس سے ناظرین کو معلوم ہو جائے گا۔کہ ان کا دماغ کیسی عجیب اور باریک باتیں نکالتا تھا۔ایک مرتبہ آپ نے فرمایا۔کہ دوسرے لوگوں نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف میں قصیدے لکھے اور جو قصید سے حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں لکھے ہیں۔ان میں یہ فرق ہے کہ آپ کے شعروں میں مشق اور محبت کا رنگ نظر آ رہا ہے۔حضرت مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ جو محبت تھی۔اس کے بارے میں فرمایا کہ آپ نے جو بعض مخالفوں کے متعلق اور ہلاکت کی پیش گوئیاں فرمائیں۔