حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 6 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 6

12 11 چنانچہ اللہ تعالیٰ اس بابت قرآن کریم میں فرماتا ہے۔قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (ال عمران : 32) یعنی محبوب الہی بننے کے لئے ضروری ہے کہ رسول اللہ کی اتباع کی جاوے ستچی اتباع آپ کے اخلاق فاضلہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرنا ہوتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 87) اللہ جلشانہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم: 5) یعنی تو ایک بزرگ خلق پر قائم ہے سو اسی تشریح کے مطابق اس کے معنی ہیں یعنی یہ کہ تمام قسمیں اخلاق کی سخاوت ، شجاعت ، عدل ، رحم ، احسان ، صدق ،حوصلہ وغیرہ تجھ میں جمع ہیں غرض جس قدر انسان کے دل میں قو تیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ادب ، حیا ، دیانت ، مروت ، غیرت ، استقامت،عفت، زہادت ، اعتدال، مواسات، یعنی ہمدردی ایسا ہی شجاعت ، سخاوت عفو،صبر، احسان ،صدق، وفا وغیرہ جب یہ تمام طبعی حالتیں عقل اور تدبر کے مشورے سے اپنے اپنے محل اور موقع پر ظاہر کی جائیں گی تو سب کا نام اخلاق ہوگا اور یہ تمام اخلاق در حقیقت انسان کی طبعی حالتیں اور طبعی جذبات ہیں اور صرف اس وقت اخلاق کے نام سے موسوم ہوتے ہیں کہ جب محل اور موقع کے لحاظ سے بالا رادہ ان کو استعمال کیا جائے چونکہ انسان کے طبعی خواص میں سے ایک یہ بھی خاصہ ہے کہ وہ ترقی پذیر جاندار ہے اس لئے وہ بچے مذہب کی پیروی اور نیک صحبتوں اور نیک تعلیموں سے ایسے طبعی جذبات کو اخلاق کے رنگ میں لے آتا ہے۔اور یہ امر کسی اور جاندار کے لئے نصیب میں نہیں۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 333-334) احادیث مبارکہ 1- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: - ” مجھے جبرائیل نے بتایا۔میں نے زمین کے مشرق اور مغرب کو پلٹ کر دیکھا تو میں نے محمد سے افضل کوئی شخص نہیں پایا۔“ (دلائل النبوة للبيهقى جلد 1 صفحه 176 ) -2- حضرت ابوسعید بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔میں قیامت کے دن تمام بنی آدم کا سردار ہوں گا مگر اس پر مجھے کوئی فخر نہیں اور کوئی بھی بنی آدم اور اس کے سوا ایسا نہیں مگر وہ اس دن میرے جھنڈے کے نیچے ہو گا نیز فرمایا قیامت کے دن میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب اور شفاعت کرنے والا ہوں گا مگر بغیر کسی فخر کے ( ترمذی کتاب المناقب باب فضل النبی) -3- حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ مجھے محبوب اور سب سے زیادہ میرے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے ہوں گے اور تم میں سے سب سے زیادہ مبغوض اور مجھ سے زیادہ دُور وہ لوگ ہوں گے جو ثر تاریعنی منہ پھٹ ، بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے ہیں اور متفیق یعنی لوگوں پر تکبر جتلانے والے ہیں۔نرمندی کتاب البر والصله باب فی معالی الاخلاق) (منقول از حديقة الصالحین صفحه 647) -4 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے