حُسنِ اخلاق — Page 59
118 مشتمل 117 ایک حصہ وہ ہے جو احکام پر صوم و زکوۃ وصلوۃ و حج جب تک پورا اخلاق نہ ہو انسان ان سے پہلو تہی کر سکتا ہے پس اس کسر کو نکالنے کے لئے تکالیف سماویہ کا ورود ہوتا ہے تا کہ جو کچھ انسانی ہاتھ سے پورا نہیں ہوا وہ خدا کی مدد سے پورا ہو جائے۔ہے مگر اس میں بہانوں کی گنجائش ہے (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 661-662) 3- ربنا أفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ (الاعراف: 127) اے خدا اس مصیبت میں ہمارے دل پر وہ سکینت نازل کر جس سے صبر آ جائے۔اور ایسا کر کہ ہماری موت اسلام پر ہو جاننا چاہیے کہ دکھوں اور مصیبتوں کے وقت میں خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے دل پر ایک نور اُتارتا ہے جس سے وہ قوت پا کر نہایت اطمینان سے مصیبت کا مقابلہ کرتے ہیں اور حلاوتِ ایمانی سے ان زنجیروں کو بوسہ دیتے ہیں جو اس کی راہ میں ان کے پیروں میں پڑیں جب با خدا آدمی پر بلائیں نازل ہوتی ہیں اور موت کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے رب کریم سے خواہ نخواہ کا جھگڑا شروع نہیں کرتا کہ مجھے ان بلاؤں سے بچا کیونکہ اس وقت عافیت کی دعا میں اصرار کرنا خدا تعالیٰ سے لڑائی اور موافقت تامہ کے مخالف ہے بلکہ سچا محب بلا کے اُترنے سے اور آگے قدم رکھتا ہے اور ایسے وقت میں جان کو ناچیز سمجھ کر اور جان کی محبت کو الوداع کہہ کر اپنے مولیٰ کی مرضی کا بکتی تابع ہو جاتا ہے اور اس کی رضا چاہتا ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 ص 420) ما مرگ آید صد ہزار کے حیات تازه بینم از نگار جب تک ہم پر لاکھوں موتیں وارد نہ ہوں تب تک ہمیں اُس محبوب کی طرف سے نئی زندگی کب مل سکتی ہے۔(ڈرشین فارسی صفحہ 237) اے مرے پیارو شکیب و صبر کی عادت کرو وہ اگر پھیلائیں بد بو تم بنو مشک تتار گالیاں سُن کے دعا دو پا کے دُکھ آرام رو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار گالیوں سے بھرے بے رنگ خطوط مکرم میر شفیع احمد صاحب بیان کرتے ہیں جب آخری دفعہ حضرت مسیح موعوڈ لاہور جا کر ٹھہرے تو میں ان دنوں حضور کی ڈاک لا کر حضور کو پہنچایا کرتا تھا ہر روز ڈاک میں دو تین خط بیرنگ ہوا کرتے تھے جو میں وصول کر لیا کرتا تھا اور حضرت صاحب کو پہنچا دیتا تھا ایک دن میں نے خواجہ کمال الدین صاحب کے سامنے بیرنگ خط وصول کئے تو خواجہ صاحب نے مجھے روکا کہ بیرنگ خط مت لو میں نے کہا میں ہر روز وصول کر لیتا ہوں اور حضرت صاحب کو پہنچاتا ہوں اور حضرت صاحب نے مجھے کبھی نہیں روکا مگر اس پر بھی خواجہ صاحب نے مجھے سختی سے روک دیا۔جب میں حضرت صاحب کی ڈاک پہنچانے لگا تو میں نے عرض کی حضور ! آج مجھے خواجہ صاحب نے بیرنگ وصول کرنے سے سختی سے روک دیا ہے حضور فرما ئیں تو اب بھی بھاگ کر لے آؤں حضرت صاحب مسکرائے اور فرمایا کہ ان بیرنگ خطوں میں سوائے گالیوں کے کچھ نہیں ہوتا اور یہ خط گمنام ہوتے ہیں۔اگر یہ پتہ لکھ دیں تو ہم انہیں سمجھا سکیں مگر شاید یہ لوگ ڈرتے ہیں کہ ہمارے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہ کریں حالانکہ ہمارا کام مقدمہ کرنا نہیں۔(سيرة المهدى جلد 2 ص 142