حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 58 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 58

116 115 دعا کے لئے بنیادی چیز صبر ہے۔یہ روایت طائف کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے ابن شہاب روایت کرتے ہیں کہ مجھے عروہ نے بتایا کہ اُم المومنین نے انہیں بتایا کہ میں نے رسول اللہ سے عرض کی کہ کیا آپ پر یومِ احد سے سخت دن بھی آیا ہے اس پر رسول اللہ نے فرمایا۔" مجھے تیری قوم سے تکالیف پہنچی ہیں اور ان تکالیف میں سے شدید ترین عقبہ والے دن پہنچی تھی (یعنی طائف والے دن کی طرف اشارہ ہے) جب میں نے اپنے آپ کو عبدیالیل بن عبد کلال کے سامنے پیش کیا اور اس نے اس بات کا جواب نہ دیا جس کا میں نے ارادہ کیا تھا میں غم زدہ ہونے کی حالت میں لوٹ رہا تھا کہ میں قرن الثالب چوٹی پر پہنچا۔میں نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو ایک بادل مجھ پر سایہ کر رہا تھا میں نے دیکھا تو اس میں جبرائیل تھے انہوں نے مجھے مخاطب کر کے پکارا اور کہا۔اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کے بارے میں سن لی ہے اور اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو آپ کے پاس بھیجا ہے تا کہ آپ اسے اس کا حکم دیں جو آپ اپنی قوم کے بارے میں چاہتے ہیں۔پس مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے پکارا اس نے مجھے سلام کیا اور کہا اے محمد اب فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے اگر چاہیں تو میں دونوں پہاڑوں کو ان پر الٹا دوں اس پر نبی نے فرمایا۔” میں تو خواہش رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان سے ایسی نسل پیدا کرے جو خدائے واحد کی عبادت کرے اور اس کا کسی کو شریک نہ قرار دے۔“ واقعہ نمبر 2 بخاری باب اذا قال احد كم امین ایک عورت کا ذکر ہے کہ اس کا بچہ مر گیا تھا اور وہ قبر پر کھڑی سیا پا کر رہی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے تو آپ نے فرمایا تو خدا سے ڈر اور صبر کر اس کمبخت نے جواب دیا کہ تو جا تجھ پر مجھ جیسی مصیبت نہیں پڑی۔بد بخت نہیں جانتی تھی کہ آپ سے گیارہ بچوں کے فوت ہونے پر بھی صبر کرنے والے ہیں جب اس کو بعد میں معلوم ہوا کہ اس کو نصیحت کرنے والے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو پھر آپ کے گھر آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میں صبر کرتی ہوں۔آپ نے فرمایا کہ الصبر عند الصدمة الاولى صبر وہ ہے جو پہلے ہی مصیبت پر آ جائے۔( منقول از الفضل 22 ستمبر 2001) فرمودات حضرت مسیح موعود علیہ السلام د 1- منجملہ انسان کے طبعی امور کے ایک صبر ہے جو اس کو ان مصیبتوں اور بیماریوں اور دُکھوں پر کرنا پڑتا ہے جو اس پر ہمیشہ پڑتے رہتے ہیں اور انسان بہت سیاپے اور جزع فزع کے بعد صبر اختیار کرتا ہے لیکن جاننا چاہیے کہ خدا کی پاک کتاب کے رو سے وہ صبر اخلاق میں داخل نہیں ہے بلکہ وہ ایک حالت ہے جو تھک جانے کے بعد ضرور تا ظاہر ہو جاتی ہے یعنی انسان کی طبعی حالتوں میں سے یہ بھی ایک حالت ہے کہ وہ مصیبت کے ظاہر ہونے کے وقت پہلے روتا چیختا سر پیٹتا ہے۔آخر بہت سا بخار نکال کر جوش تھم جاتا ہے اور انتہا تک پہنچ کر پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔بلکہ اس کے متعلق خلق یہ ہے کہ جب کوئی چیز اپنے ہاتھ سے جاتی رہے تو اس چیز کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھ کر کوئی شکایت منہ پر نہ لاوے اور یہ کہہ کر کہ خدا کا تھا خدا نے لے لیا اور ہم اس کی رضا کے ساتھ راضی ہیں۔۔66 اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 ص 361-362) 2۔جو تکالیف خدا کی طرف سے ہوں وہ جب انسان پر پڑتی ہیں اور وہ ان پر صبر کرتا ہے تو اس کی ترقی کا موجب ہو جاتی ہیں۔۔۔غرض تکالیف دو قسم کی ہیں