حُسنِ اخلاق — Page 40
80 79 (اس کے ) رسول سے خیانت نہ کرو ورنہ تم اس کے نتیجہ میں خود اپنی امانتوں سے خیانت کرنے لگو گے جب کہ تم (اس خیانت کو ) جانتے ہو گئے (الانفال : 28) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 1 - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا جس میں امانت نہیں اس میں ہی میں امامت نہیں میں ایمان نہیں جس میں عہد کا لحاظ نہیں اس میں دین نہیں۔( کنز العمال جلد 2 صفحہ 15 ) 2- ایک دفعہ ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہوتا ہے۔ادب المفرد باب المستشار موتمن 3- ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کھجور کے ایک ڈھیر میں سے گھر کے کسی بچے حضرت امام حسن یا امام حسین میں سے کسی نے کھجور لے کر منہ میں ڈال لی۔آپ نے فوراً وہ کھجور بچے کے منہ سے نکلوا دی کیونکہ وہ صدقہ کا مال تھا جو کہ غریب مسلمانوں کی امانت تھی۔( بخاری کتاب الزکوة) -4 حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن میں جھوٹ اور خیانت کے سوا تمام بُری عادتیں ہو سکتی ہیں۔(مسند احمد بن حنبل) 5- حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کسی شخص کے دل میں ایمان اور کفر نیز صدق اور کذب اکٹھے نہیں ہو سکتے اور نہ ہی امانت اور خیانت اکٹھے ہو سکتے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحہ 349) 6- ایک دفعہ رسول کریم نماز پڑھانے کے بعد خلاف معمول تیزی سے گھر تشریف لے گئے اور ایک سونے کی ڈلی لے کر واپس آئے فرمایا کچھ سونا آیا تھا جو کہ سب کا سب تقسیم ہو گیا تھا۔یہ سونے کی ڈلی بچ گئی تھی جو میں لے آیا ہوں کہ قومی مال میں سے کوئی چیز ہمارے گھر میں نہ رہ جائے۔واقعہ نمبر 1 ( بخاری کتاب الزکوة ) غزوہ خیبر کے موقع پر جب یہود شکست کے بعد پسپا ہوئے اس طویل محاصرے کے بعد مسلمانوں نے جو کئی دن سے بھوکے پیاسے تھے یہود کے مال مویشی پر مال غنیمت کے طور پر قبضہ کر لیا اور کچھ جانور ذبح کر کے ان کا گوشت پکنے کے لئے آگ پر چڑھا دیا۔اس بات کا علم ہونے پر رسول کریم نے اسے سخت ناپسند فرمایا که مال غنیمت تو با ضابطہ طور پر تقسیم کیا جاتا ہے اور اس بات کو آپ نے خیانت گردانا اور فرمایا گوشت کے بھرے سب برتن اُلٹا دیئے جائیں اس طرح آپ نے صحابہ کو امانت کا عملی سبق دیا اور خود صحابہ میں جانور تقسیم فرمائے۔واقعہ نمبر 2 (مسند احمد جلد 4 صفحہ 89) غزوہ خیبر کا ہی واقعہ ہے کہ یہود کے چرواہے نے اسلام قبول کر لیا اب سوال پیدا ہوا کہ اس کے ذمہ جو یہود کی بکریاں ہیں ان کا کیا کیا جائے ؟ حضور نے اس جنگ کے عالم میں یہ فیصلہ فرمایا کہ بکریوں کا منہ قلعے کی طرف کر کے ہانک دو۔خدا ان کو ان کے مالک کے پاس پہنچا دے گا۔اسلام لانے والے غلام نے ایسا ہی کیا اور بکریاں قلعے کے پاس پہنچ گئیں جہاں سے قلعے والوں نے ان کو اندر داخل کر لیا رسول کریم نے جنگ کے موقع پر جس میں سب کچھ