حُسنِ اخلاق — Page 41
82 81 جائز سمجھا جاتا ہے امانت کا دامین نہ چھوڑ ا حالانکہ وہ بکریاں اس محاصرے میں کئی دن کی خوراک کا کام دے سکتی تھیں۔(السيرة النبوۃ ابن ہشام) فاقوں مر جائے پر جائے نہ امانت تیری دور و نزدیک ہو مشہور امانت تیری دریغ جاں بھی دینی پڑے تو نہ ہو اس سے حالت میں نہ جھوٹی ہو ضمانت تیری نسی فرمودات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کلام محمود صفحه 285 1 - خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے چنانچہ لباس التقوى قرآن شریف کا لفظ ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا مقدور کار بند ہو جائے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 210) دوسری قسم ترک شر کے اقسام میں سے وہ خلق ہے جس کو امانت و دیانت کہتے ہیں یعنی دوسرے کے مال پر شرارت اور بد نیتی سے قبضہ کر کے اُس کو ایذا پہنچانے پر راضی نہ ہونا سو واضح ہو کہ دیانت اور امانت انسان کی طبعی حالتوں میں سے ایک حالت ہے اسی واسطے ایک بچہ شیر خوار بھی بوجہ اپنی کم سنی اپنی طبعی سادگی پر ہوتا ہے اور نیز بباعث صغرسنی ابھی بُری عادتوں کا عادی نہیں ہوتا اس قدر غیر کی چیز سے نفرت رکھتا ہے کہ غیر عورت کا دودھ بھی مشکل سے پیتا ہے اگر بے ہوشی کے زمانے میں کوئی اور دایہ مقرر نہ ہو تو ہوش کے زمانے میں اس کو دوسرے کا دودھ پلانا نہایت مشکل ہو جاتا ہے اور اپنی جان پر بہت تکلیف اُٹھاتا ہے۔۔۔امین اور دیانتدار بننا بہت نازک امر ہے جب تک انسان تمام پہلو بجا نہ لاوے امین اور دیانت دار نہیں ہوسکتا۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 344-345) واقعہ حضرت میاں عبد اللہ صاحب سنوری جو کہ حضرت مسیح موعود کے مقرب رفیق تھے۔حضور سے آپ کے تعلقات دعوئی سے قبل کے تھے اور آپ کو بہت سفروں میں رفاقت کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔آپ کی امانت کے بارے میں واقعہ بیان کرتے ہیں۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان کے شمالی جانب سیر کے لئے تشریف لے گئے میں اور شیخ حامد علی ساتھ تھے۔راستہ میں ایک کھیت کے کنارے ایک چھوٹی سی بیری تھی اور اسے بیر لگے ہوئے تھے اور ایک بہت عمدہ پکا ہوا لال بیر راستہ پر گرا ہوا تھا میں نے چلتے چلتے اُسے اُٹھا لیا اور کھانے لگا حضرت صاحب نے فرمایا نہ کھاؤ اور وہیں رکھ دو۔آخر یہ کسی کی ملکیت ہے۔میاں عبد اللہ صاحب کہتے ہیں کہ اس دن سے آج تک میں نے کسی بیری کے بیر بغیر اجازت مالک اراضی کے نہیں کھائے کیونکہ میں جب کسی بیری کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے یہ بات یاد آ جاتی ہے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ اس علاقہ میں بیریاں عموماً خود رو ہوتی ہیں اور اُن کے پھل کے بارے میں کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔“ (سيرة المهدی جلد اول صفحہ 102-103 )