حُسنِ اخلاق — Page 35
70 69 تہہ بند جب درست کر دیا گیا تو آپ نے اطمینان محسوس کیا واقعہ نمبر 2 (بخارى كتاب البنيان الكعبه باب نمبر 1) پاکدامنی کی دنیوی برکت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ قدیم کے تین آدمیوں کا قصہ بیان کرتے ہیں جو ایک ساتھ سفر کر رہے تھے کہ دفعتہ پانی برسنے لگا تینوں نے پانی سے بچنے کے لئے ایک پہاڑ کے غار میں پناہ لی سوئے اتفاق پہاڑ کے اوپر سے ایک پتھر لڑھک آیا جس سے غار کا سوئے اتفاق سے پہاڑ کے اوپر سے ایک پتھر لڑھک آیا جس سے غار کا منہ بند ہو گیا اب نجات کی صورت اس کے سوا نہ تھی کہ اپنے اپنے اعمال صالحہ کے واسطے سے خدا سے دعا کریں چنانچہ اسی طرح ہر ایک نے دعا کی اور ان اعمال صالحہ کے واسطے سے خدا سے دعا کی اور ان اعمال کی برکت سے پتھر رفتہ رفتہ ہٹ گیا ان میں پاکباز آدمی کی دعا یہ تھی خدا وند تو جانتا ہے کہ میرے چچا کی ایک لڑکی تھی جو مجھے سب سے زیادہ پیاری تھی اور میں دل و جان سے اُسے چاہتا تھا میری تمنا تھی کہ اس سے اپنی نفسانی خواہش پوری کروں لیکن وہ سو دینار لئے بغیر تیار نہیں ہوتی تھی میں نے تگ و دو کی تو مطلوبہ سو دینار حاصل ہو گئے تو میں نے اس کے سپرد کر دیئے اس نے خود کو میرے سامنے پیش کیا جب میں نے اپنی نفسانی خواہش پوری کرنی چاہی تو کہنے لگی خدا سے ڈر اور شرعی حق کے بغیر مہر بکارت کو نہ توڑ۔میں اسی طرح کھڑا ہوا اور سو دینار بھی چھوڑ دیئے اگر تو جانتا ہے کہ میں نے ایسا صرف تیرے خوف سے کیا تھا تو ہمیں راستہ عطا فرمادے پس اللہ تعالیٰ نے اور وہ باہر نکل آئے۔( صحیح بخاری جلد دوم کتاب الانبیاء پارہ 14 صفحہ 330-331 باب حدیث الغار 352 حديث 682) ذکر اس عورت کا جس نے اپنی عزت کو محفوظ رکھا دنیا میں ہر زمانہ میں لا تعداد عورتیں ہوئیں جو پاکدامن تھیں اور اب بھی ہیں ایسی عورتیں نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ غیر مسلموں میں سے بھی ہوئیں اور ہیں۔عورت چونکہ عفت پسند ، بد نامی سے بچنے والی ، پاکدامن ہوتی ہے اور غیر مسلم عورتوں میں بھی ایسی عورتوں کی کمی نہیں۔۔۔عمران کی بیٹی مریم نے پاکدامنی ختیار کی تو ہم نے اسے یہ انعام دیا کہ مسیح جیسی مقدس روح اسے عطا فرمائی اگر پاکدامنی کا ایک عظیم الشان اجر ہے تو کروڑوں خدا کی بندیاں ہیں جنہوں نے بد کاری نہیں کی بلکہ بہت ساریوں نے ساری عمر بیوگی یا تجر د میں ہی گزار دی اور پاکدامن رہیں ان کو یہ انعام کیوں نہیں ملا؟ سو حقیقت اس پاکدامنی کی یہ ہے ا کہ دنیا میں ملکوں اور قوموں اور حکومتوں کے نظام کے لحاظ سے عورتیں عموماً کسی نہ کسی حفاظت کے ماتحت ہوتی ہیں اس لئے ان کی پاکدامنی بہت حد تک اس حفاظت کی وجہ سے ہے جو والدین ،رشتہ دار، برادری اور رسم و رواج ان کی کرتے ہیں انسانی اخلاق بھی اس کا محافظ ہے اور بالآخر تقویٰ یا خدا کا خوف ان سے آخری بات یعنی با وجود تمام مواقع اور آزادیوں کے موجود ہونے کے جو عورت محض خدا کے خوف سے اپنی پاکدامنی کو قائم رکھے۔خدا کے ہاں اسے عظیم الشان اجر ملتا ہے دوسروں کی عفت رواجی ہے اس عورت کی عفت علی وجہ البصیرت اور ایمان اور تقویٰ کی وجہ سے ہے۔منقول از مضامین ڈاکٹر میر محمد اسماعیل جلد دوم صفحہ 925,926 ) دو عضو اپنے جو کوئی ڈر کر بچائے گا سیدھا خدا کے فضل سے جنت میں جائے گا