حُسنِ اخلاق — Page 34
68 67 حالانکہ اس کی خوشبو دُور کے فاصلے سے بھی آ سکتی ہے۔(مسلم کتاب اللباس) حیا اُٹھنے کے نتیجے میں دین سے رابطہ ٹوٹنے کے تدریجی مراحل۔3- آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے حیا چھین لیتا ہے جب اس سے حیا چھین لی جاتی ہے تو تو اسے اس حال میں پائے گا کہ وہ ہر معاملہ میں خدا سے ناراض ہو گا اور اس کے نتیجہ میں وہ خدا کی ناراضگی کا مورد بنے گا اس کے نتیجہ میں اس سے امانت کا خُلق چھین لیا جائے گا اور وہ سخت خائن بن جائے گا اور جب امانت اُٹھ جائے گی تو رحمت چھن جائے گی اور رحمت کھینچی گئی تو وہ بارگاہ الہی سے مردود اور ملعون قرار دیا جائے گا اور بالآخر دین کا جوا اپنی گردن سے اُتار پھینکے (ابن ماجه الفتن باب زهاب الامانة) گا۔-4- اللہ تعالیٰ حیاء اور شادی کو پسند کرتا ہے صرف پسند نہیں کرتا بلکہ خود بھی بہت حیا دار اور ستار ہے۔(مسند احمد جلد 4 صفحہ 224) 5۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شریعت کی وضاحت کرتے ہوئے بے شمار نازک اور باریک مسائل بیان فرمائے مگر حیا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹا۔آپ پاکیزگی اور تقویٰ کے انتہائی مقام پر فائز تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو امت کے باپ کی جگہ قرار دیا مگر پھر بھی آپ ﷺ کی حیا کا بلند تقاضا یہ رہا کہ عورتوں کی بیعت لیتے وقت کبھی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا بلکہ زبانی بیعت لی۔( بخاری کتاب التفسیر سوره المتحنه )۔6 - عبد الرحمن بن زید کا بیان ہے کہ میں علقمہ اور اسود کے ساتھ عبد اللہ مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ چند تہی دست نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے تو رسول اللہ نے ہم سے فرمایا۔اے نوجوانو ! جو تم میں سے عورتوں کے حقوق ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو وہ ضرور نکاح کرے کیونکہ یہ نگاہ کو جھکاتا اور شرم گاہ کی حفاظت کرتا اور جو اس کی طاقت نہ رکھے تو اس کے لئے روزے ہیں کیونکہ یہ جنسی خواہش کو کم کرتے ہیں۔( صحیح بخاری کتاب النکاح صفحہ 52 حدیث 59) -7- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ سات آدمی ایسے ہیں جن کو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سائے میں رکھے گا جس روز کہ خدا کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔انصاف کرنے والا حاکم اللہ کی عبادت کرنے والا جوان ، وہ شخص جس نے تنہائی میں خدا کو یاد کیا اور آنسو جاری ہو گئے۔وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا رہے۔وہ دو شخص جو اللہ کے لئے محبت کریں وہ شخص جس کو اقتدار اور حسن و جمال والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی کہ جب خیرات کرے تو اتنی پوشیدہ رکھے کہ بائیں ہاتھ کو پتہ نہ لگے کہ دائیں ہاتھ نے کیا کیا ہے۔( بخاری شریف کتاب المحاربین ، من ترک الفواحش حدیث نمبر 1711) واقعہ نمبر 1۔آپ ﷺ کے بچپن میں کعبہ کی تعمیر ہو رہی تھی حضور ﷺ اور حضور کے چچا عباس پتھر اٹھا اٹھا کر جمع کر رہے تھے تو آپ کے چچا عباس نے آپ سے کہا بھیجے اپنا تہہ بند اپنے شانے پر رکھ لوتا کہ پتھروں وغیرہ کی رگڑ نہ لگے اور غالباًا حضرت عباس نے خود ہی ایسا کر دیا مگر چونکہ آپ کے جسم کا کچھ ستر والا حصہ نگا ہو گیا جس کی وجہ سے آپ شرم کے مارے زمین پر گر گئے اور آپ کی آنکھیں پتھر اگئیں اور آپ بیتاب ہو کر پکارنے لگے میرا تہہ بند اور پھر آپ کا