حُسنِ اخلاق — Page 36
72 71 وہ اک زباں ہے عضو نہانی ہے دوسرا ہے حدیث سیدنا سید الوری در متین صفحه 115 حضرت مسیح موعود علیہ السلام پاکدامنی کے بارے میں فرماتے ہیں۔اخصان۔۔۔سے مراد خاص وہ پاکدامنی ہے جو مرد اور عورت کی قوت تناسل سے علاقہ رکھتی ہے اور محصن یا مصنہ اُس مرد یا اُس عورت کو کہا جائے گا جو حرام کاری یا اس کے مقدمات سے مجتنب رہ کر اس ناپاک بد کاری سے اپنے تیں روکیں۔۔۔۔۔۔اس جگہ یاد رہے کہ یہ خلق جس کا نام احصان یا عفت ہے یعنی پاکدامنی۔یہ اسی حالت میں خلق کہلائے گا جب کہ ایسا شخص جو بد نظری یا بدکاری کی استعداد اپنے اندر رکھتا ہے یعنی قدرت نے وہ قومی اس کو دے رکھے ہیں جن کے ذریعہ اس جرم کا ارتکاب ہوسکتا ہے اس فعل شنیع سے اپنے تئیں بچائے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 340) قال اللہ تعالیٰ رکھا کریں۔“ غض بصر 1- ترجمہ: ” مومنوں کو کہہ دے کہ اپنی آنکھیں نیچی (النور:31) 2- ترجمہ: ” اور مومن عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی 66 آنکھیں نیچی رکھا کریں۔“ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ย (النور:32) 1۔حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ کے قول سے بڑھ کر نہیں دیکھا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زنا میں جو حصہ مقر ر فرما دیا ہے وہ یقیناً اسے مل جاتا ہے چنانچہ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا بات کرنا۔نفس کا زنا خواہش و تمنا کرنا اور شرم گاہ ان سب کی تصدیق یا تردید کر دیتی ہے۔“ (صحیح بخاری جلد سوم کتاب الاستئذان صفحه 461 حديث 1173) 2- فرمودات حضرت مسیح موعود علیہ السلام وووو 1- پردہ کی یہی فلاسفی اور یہی ہدایت شرعی ہے۔خدا کی کتاب میں پردہ سے یہ مراد نہیں کہ فقط عورتوں کو قیدیوں کی طرح حراست میں رکھا جائے۔یہ اُن نادانوں کا خیال ہے جن کو طریقوں کی خبر نہیں۔بلکہ مقصود یہ ہے کہ عورت مرد دونوں کو آزاد نظر اندازی اور اپنی زینتوں کے دکھانے سے روکا