حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 23 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 23

46 45 واقعہ نمبر 2 حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم کے گھر کے قریب سے گزرتے تو ان کے گھر آتے اور ان کو سلام کہتے حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم کی شادی زینب بنت حجش سے ہوئی تو مجھے میری والدہ ام سلیم نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تحفہ بھیجیں تو کتنا اچھا ہوگا اس پر میں نے کہا بھیج دیں تو میرے کہنے کے بعد میری والدہ نے کھجور اور پنیر کو ایک برتن میں ڈالا اور ان کو ملا کر حنین نامی کھانا تیار کیا اور پھر وہ کھانا مجھے دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا جب میں آپ کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھے ارشاد فرمایا اس برتن کو رکھو پھر کچھ آدمیوں کا نام لے کر فرمایا کہ ان کو بلا لاؤ اور ہر وہ شخص جو تمہیں ملے اسے کہنا کہ میں بلا رہا ہوں حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلّم کے ارشاد کے مطابق کیا جب میں واپس آیا تو گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کو دیکھا کہ آپ نے اپنا دستِ مبارک اس کھانے پر رکھا اور اس کو برکت دینے کے لئے کچھ دیر دعا کرتے رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس دس افراد کو بلانے لگے جو اس برتن میں کھاتے تھے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو فرماتے تھے کہ بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ اور ہر شخص اپنے سامنے سے کھائے۔آنحضور اسی طرح ان سب کو بلاتے رہے یہاں تک کہ ان سب نے کھانا کھا لیا۔( بخاری کتاب التوحيد باب الهدية للروس) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی 1 - حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب ڈاکٹر عبد اللہ صاحب کا واقعہ بیان کرتے ہیں ( یہ نو احمدی تھے ) ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حضرت مسیح موعود سے نیاز حاصل کرنے کے لئے لاہور سے دو دن کی رخصت لے کر آیا (ڈاکٹر صاحب لاہور میں انجمن حمایت اسلام کے شفاخانہ میں کام کرتے تھے ) رات کی گاڑی پر بٹالہ اُترا اس لئے رات کو میں وہیں رہا اور صبح سویرے اُٹھ کر قادیان کو روانہ ہو گیا اور ابھی سورج تھوڑا ہی نکلا تھا کہ یہاں پہنچ گیا۔میں پرانے بازار کی طرف سے آ رہا تھا جب میں بیت اقصیٰ کے قریب جو بڑی حویلی (ڈپٹی منکر داس کی حویلی ) ہے وہاں پہنچا تو میں نے اس جگہ (جہاں اب صاحبزادہ مرزا شریف احمد کا مکان ہے اور اس وقت یہ جگہ سپید ہی تھی) حضرت مسیح موعود کو ایک مزدور کے پاس جو اینٹیں اُٹھا رہا تھا کھڑے ہوئے دیکھا حضرت صاحب نے بھی مجھے دیکھ لیا۔آپ مجھے دیکھتے ہی مزدور کے پاس سے آ کر راستہ پر کھڑے ہو گئے۔میں نے قریب پہنچ کر سلام کیا۔آپ نے جواب دیا اور فرمایا کہ اس وقت کہاں سے آ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں رات بٹالہ رہا ہوں اور اب آپ کی خدمت میں وہاں سے سویرے چل کر حاضر ہوا ہوں۔آپ نے فرمایا پیدل آئے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔افسوس کے لہجہ میں فرمایا کہ تمہیں تو بڑی تکلیف ہوئی ہوگی۔میں نے عرض کیا کہ کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔آپ نے فرمایا اچھا بتاؤ چائے پیو گے یاکسی میں نے عرض کیا کہ کچھ نہیں پیوں گا۔آپ نے فرمایا تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ہمارے گھر گائے ہے جو کہ تھوڑا دودھ دیتی ہے گھر والے چونکہ دہلی گئے ہوئے ہیں اس لئے اس وقت کسی موجود ہے اور چائے بھی۔اس لئے جو چاہو پی لو میں نے کہا لسی پیوں گا۔آپ نے فرمایا اچھا چلو ( بیت ) مبارک میں بیٹھو میں (بیت) مبارک میں آکر بیٹھ گیا تھوڑی دیر کے بعد بیت الفکر کا دروازہ کھلا میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت صاحب ایک کوری ہانڈی معہ کوری چینی کے جس میں لسی تھی خود اُٹھائے ہوئے دروازے