حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 24 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 24

48 47 سے نکلے چینی پر نمک تھا اور اس کے اوپر ایک گلاس رکھا ہوا تھا حضرت صاحب نے وہ ہانڈی میرے سامنے لا کر رکھ دی اور خود اپنے دستِ مبارک سے گلاس میں کسی ڈالنے لگے میں نے خود گلاس پکڑ لیا اتنے میں چند اور دوست بھی آگئے میں نے انہیں بھی لسی پلائی اور خود بھی پی پھر حضرت صاحب خود وہ ہانڈی اور گلاس لے کر اندر تشریف لے گئے۔آپ کی اس شفقت اور نوازش کو دیکھ کر میرے ایمان کی بہت ترقی ہوئی۔(سیرت حضرت مسیح موعود حصہ اوّل صفحہ 136 تا 139 ) 2- ایک گھر کی خادمہ سے کسی مہمان کو کوئی تکلیف پہنچی حضرت مسیح موعود کو خبر ہوئی تو حضور کا چہرہ مارے غصہ کے سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا مجھے اس سے اس قدر تکلیف ہوئی ہے کہ اگر میرے چاروں بچے بھی مر جاتے تو اتنی تکلیف نہ پہنچتی۔(الفضل 23 ستمبر 2000) 3- آپ کی طبیعت نہایت درجہ مہمان نواز تھی اور جو لوگ جلسہ کے موقع پر یا دوسرے موقعوں پر قادیان آتے تھے خواہ وہ احمدی ہوں یا غیر احمدی وہ آپ کی محبت اور مہمان نوازی سے پورا پورا حصہ پاتے تھے آپ کو ان کے آرام اور آسائش کا از حد خیال رہتا تھا آپ کی طبیعت میں تکلف بالکل نہ تھا اور ہر مہمان کو ایک عزیز کے طور پر ملتے تھے اور اس کی خدمت اور مہمان نوازی میں دلی خوشی پاتے تھے اوائل زمانہ کے آنے والے لوگ بیان کرتے ہیں کہ جب کو کی مہمان آتا تو آپ ہمیشہ اسے ایک مسکراتے ہوئے چہرہ سے ملتے تھے۔مصافحہ کرتے خیریت پوچھتے عزت کے ساتھ بٹھاتے گرمی کا موسم ہوتا تو شربت بنا کر پیش کرتے سردیاں ہوتیں تو چائے وغیرہ تیار کروا کر لاتے۔رہائش کی جگہ کا انتظام کرتے اور کھانے وغیرہ کے متعلق مہمان خانہ کے منتظمین کو خود بُلا کر تاکید فرماتے کہ کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ایک پرانے رفیق نے جو دنیا وی لحاظ سے معمولی حیثیت کے تھے بیان کیا کہ جب شروع شروع میں قادیان آیا تو اس وقت گرمی کا موسم تھا حضرت مسیح موعود حسب عادت نہایت محبت اور شفقت کے ساتھ ملے اور مجھے خود اپنے ہاتھ سے شربت بنا کر دیا اور لنگر خانے کے منتظم کو بلا کر میرے آرام کے بارے میں تاکید فرمائی اور مجھے بار بار فرمایا کہ کسی چیز کی ضرورت ہو تو آپ بلا تکلف کہہ دیں ایک بار سردیوں میں آیا نماز اور کھانے سے فارغ ہو کر سونے کے لئے لیٹ گیا کہ کسی نے میرے کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھٹکھٹایا میں اُٹھ کر بیٹھ گیا تو آپ خود بنفس نفیس ایک ہاتھ میں لالٹین لئے اور دوسرے میں ایک پیالہ تھامے کھڑے تھے مسکراتے ہوئے فرمایا۔اس وقت کہیں سے دودھ آ گیا تھا 66 میں نے کہا آپ کو دے آؤں شائد رات کو دودھ پینے کی عادت ہوگی۔“ (سلسلہ احمدیہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 44-45 منقول از مصباح مارچ 2005) مہماں جو کر کے اُلفت آئے بصد محبت پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت روز کر مبارک سبحان من برانی ڈرمین پھول تم پر فرشتے نچھاور کریں اور کشادہ ترقی کی راہیں کریں آرزوئیں مری جو دعائیں کریں رنگ لائیں مرے مہماں کے لئے میرے آنسو تمہیں دیں زم زندگی دور تم سے کریں ہر غم زندگی مہماں کو ملے جو رم زندگی وہی امرت بنے میزباں کے لئے کلام طاہر