حُسنِ اخلاق — Page 22
44 43 قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم 1- حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ علیہ و ستم سے عرض کیا کہ کون سا اسلام سب سے بہتر ہے فرمایا (ضرورت مندوں کو) کھانا کھلاؤ اور ہر اس شخص کو جسے تم جانتے ہو یا نہیں جانتے سلام کہو۔( بخاری کتاب الاستئذ ان باب السلام للمعرفة و غير المعرفة ) 2- حضرت شریح بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ مہمان کی عزت کرے اور ایک دن رات سے تین دن رات تک اُسے مہمان رکھے اگر اُس سے زائد عرصہ مہمان اس کے پاس ٹھہرتا ہے اور وہ اس کی مہمان نوازی کرتا ہے تو یہ اس کی طرف سے صدقہ اور نیکی کی بات ہوتی ہے۔مہمان کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ بلا اجازت اس کے ہاں ٹھہرا رہے اور میزبان کو تکلیف میں ڈالے۔(ابوداؤد كتاب الاطعمة باب الضيافة) 3۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری سنت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ میز بان اعزاز و تکریم کے ارادہ سے مہمان کے ساتھ گھر کے دروازے تک الوداع کہنے آئے۔(ابن ماجہ ابواب الاطعمه باب الضيافة) -4- حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ اسے قبول کرے اگر روزے سے ہے تو حمد و ثنا اور دعا کرتا رہے اور معذرت کرے اگر روزہ دار نہیں تو جو کچھ پیش کیا گیا ہے وہ خوشی سے کھائے۔مسلم كتاب النكاح باب الامر باجابة الداعي الى دعوة) واقعہ نمبر 1 عبد اللہ بن طغفہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کثرت سے مہمان آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ ہر کوئی اپنا مہمان لیتا جائے ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے مہمان آگئے۔آپ نے فرمایا کہ ہر کوئی اپنے حصے کا مہمان ساتھ لیتا جائے۔عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان میں تھا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے تھے چنانچہ جب آپ ﷺ گھر پہنچے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : کیا گھر میں کھانے کو کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں حریسہ نامی کھانا ہے جو میں نے آپ کے افطار کے لئے تیار کیا ہے تو راوی کہتے ہیں کہ وہ کھانا ایک برتن میں ڈال کر لائیں ( تھوڑا سا ہو گا ) اس میں سے رسول اللہ نے تھوڑا سا لیا اور تناول فرمایا اور پھر فرمایا کہ بسم اللہ کر کے کھائیں پھر ہمیں بھی دیا چنانچہ ہم نے اس کھانے میں سے اس طرح کھایا کہ ہم اسے دیکھ نہیں رہے تھے۔پھر اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! کیا تمہارے پاس پینے کو کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں حریرہ ہے جو میں نے آپ کے لئے تیار کیا ہے فرمایا لے آؤ حضرت عائشہ وہ لائیں تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑا اور برتن کو اپنے منہ کی طرف بلند کیا تھوڑا سا نوش کر کے فرمایا : بسم اللہ کر کے پینا شروع کرو پھر ہم اس سے اس طرح پینے لگے کہ ہم اسے دیکھ نہیں رہے ، تھے۔روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم کہاں سونا چاہتے ہو؟ یہاں یا مسجد میں ہم مسجد چلے گئے وہیں سوئے صبح حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے نماز کے لئے ہر ایک کو جگایا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 428 مطبوعہ بیروت)