حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 21 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 21

42 41 واقعہ نمبر 2 ایک خادم ربیعہ اسلمی کی خدمتوں سے خوش ہو کر نبی کریم نے کچھ انعام اس کی مرضی کے مطابق دینا چاہا فرمایا مانگ لو جو مانگتا ہے اس خوش نصیب نے بھی یہی کہا کہ یا رسول اللہ ! جنت میں آپ کی رفاقت چاہیے۔فرمایا کچھ اور مانگ لو اس نے کہا بس میں یہی خواہش رکھتا ہوں۔آپ نے فرمایا جس سے تم محبت کرتے ہو جنت میں اس کے ساتھ ہی ہو گے اور سجدوں کے ذریعے اور نماز کے ذریعے میری مدد کرو کہ تمہاری یہ خواہش پوری ہو جائے۔(مسلم کتاب الصلوۃ باب فضل السجود ) واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ حضور اندر لکھ رہے تھے کہ منشی غلام محمد صاحب کا بیٹا روتا اور چلاتا ہوا بھاگتا آیا اور اس کے پیچھے منشی غلام محمد صاحب جوتا ہاتھ میں لئے ہوئے شور مچاتے ہوئے آئے کہ باہر نکل میں تجھ کو مار ہی ڈالوں گا حضرت اقدس یہ شورسُن کر باہر نکلے اور منشی صاحب سے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ وہ یہی کہتے جاتے تھے کہ میں نے اس کو مار ہی دینا ہے آخر حضرت صاحب کے اصرار پر بتایا کہ حضور میں نے اس کو نیا جوتا لے کر دیا تھا اس نے گم کر دیا ہے اب میں اس کو مار ہی دوں گا۔حضرت اس کو سن کر ہنس پڑے اور منشی صاحب کو کہا کہ اس پر اتنا شور مچانے کی کیا ضروت ہے اور مارتے کیوں ہو بات تو صرف جوتے کی ہے میں ہی نیا جوتا خرید کر دوں گا۔اس پر منشی صاحب خوش ہو کر چلے گئے اور بیٹے کو کہا اچھا اب آجا ! حضرت صاحب جو تا خرید کر دیں گے۔حضرت صاحب اس واقعہ کو بیان کرتے تھے اور ہنستے تھے کہ دیکھو یہ اس نے کیا کیا تنخواہ کے علاوہ اس کی خوراک وغیرہ کا خرچ بھی آپ دیتے اور اس پر کھانا بھی وہ حضرت ہی کے ہاں سے لے لیتا اور بعض ضروری پارچہ جات ، بستر وغیرہ یا سردی کا موسم ہو تو رضائی اور گرم کوٹ بھی لے لیتا۔حضرت مسیح موعود اس کی ان باتوں کو سمجھتے مگر کبھی نہ تو ناراض ہوتے اور نہ اُس کو الگ کرتے۔“ سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت یعقوب علی عرفانی صاحب صفحہ 354) قال اللہ تعالیٰ مہمان نوازی 1 - ترجمہ: ” کیا تجھ تک ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے ؟ جب وہ اس کے پاس آئے تو انہوں نے کہا سلام ! اس نے بھی کہا سلام! (اور جی میں کہا ) اجنبی لوگ (معلوم ہوتے ہیں) پھر وہ جلدی سے اپنے گھر والوں کی طرف گیا اور ایک موٹا تازہ ( بھنا ہوا) بچھڑا لے آیا پھر اسے ان کے سامنے پیش کیا اور پوچھا کیا تم کھاؤ گے نہیں؟ تب اُس نے ان کی طرف سے خوف محسوس کیا۔انہوں نے کہا ڈر نہیں۔اور انھوں نے اُسے ایک صاحب علم بیٹے کی خوشخبری دی۔“ (الذاریات: 25 تا 29) 2- ترجمہ:۔اُس نے کہا یہ میرے مہمان ہیں پس مجھے رسوا نہ کرو۔اور اللہ سے ڈرو اور مجھے ذلیل نہ کرو۔“ ( الحجر : 70-69)