حُسنِ اخلاق — Page 17
34 33 سچ کہا تھا۔(تذکرۃ الاولیاء باب نمبر 3 ص 135) ( منقول از روز نامه الفضل 13 جون 2001) تیموں اور مسکینوں سے حُسنِ سلوک قال اللہ تعالیٰ 1 - ترجمہ:- اور وہ کھانے کو، اس کی چاہت رکھتے ہوئے، مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں۔(الدھر:9) 2- ترجمہ: - اور ان کے اموال میں سوال کرنے والوں اور بے سوال ضرورت مندوں کے لئے ایک حق تھا (الذاریات: 20) -3- ترجمہ - یا ایک عام فاقے والے دن میں کھانا کھلانا۔ایسے یتیم کو جو قرابت والا ہو۔یا ایسے مسکین کو جو (البلد : 15-17) خاک آلودہ ہو۔4 - ترجمہ: - خبردار در حقیقت تم یتیم کی عزت نہیں کرتے اور نہ ہی مسکین کو کھانا کھلانے کی ایک دوسرے (الفجر:18,19 ) کو ترغیب دیتے ہو۔5- ترجمہ:- اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگرایسے طریق پر کہ وہ بہترین ہو یہاں تک کہ وہ اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے اور عہد کو پورا کرو یقیناً عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔( بنی اسرائیل: 35) -6- ترجمہ: اور وہ تجھ سے تیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔تو کہہ دے ان کی اصلاح اچھی بات ہے۔اور اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی بند ہی ہیں۔اور اللہ فساد کرنے والے کا اصلاح کرنے والے سے فرق جاننا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ضرور مشکل میں ڈال دیتا۔یقیناً اللہ کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔(البقرہ:221) 7- ترجمہ: اور تم میں سے جولوگ وفات دیے جائیں اور بیویاں پیچھے چھوڑ رہے ہوں،ان کی بیویوں کے حق میں یہ وصیت ہے کہ وہ (اپنے گھروں میں) ایک سال تک فائدہ اُٹھائیں اور نکالی نہ جائیں۔ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم (البقره: 241) 1- یتیم کی پروش کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح نزدیک ہوں گے اور آپ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر دکھایا کہ اس طرح۔“ ( صحیح بخاری جلد سوم کتاب الادب باب 580 حدیث 943 صفحہ 374)