حُسنِ اخلاق — Page 18
36 35 2- صفوان بن سلیم (تابعی) اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا۔وو بیوہ اور مسکین کے لئے امدادی کوشش کرنے والا۔اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا اُس شخص کی مانند ہے جو دن کو ہمیشہ روزے رکھے اور راتوں کو قیام کرے۔“ (صحیح بخاری جلد سوم کتاب الادب باب 581 حدیث 944 صفحہ 374) 4- حضرت عبداللہ بن ابی اوفی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں تکبر نام کو نہ تھا نہ آپ ناک چڑھاتے اور اس بات پر بُرا مناتے اور بچتے کہ آپ بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ چلیں اور ان کے کام آئیں اور ان کی مدد کریں یعنی بے سہارا عورتوں اور مسکینوں اور غریبوں کی مدد کے لئے ہر وقت کمر بستہ رہتے اور اس میں خوشی محسوس کرتے۔(مسند دارمی باب فی تواضع رسول الله ) 5- حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا مساکین سے محبت کرو پس میں نے رسول اللہ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا۔اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ مجھے مسکینی کی حالت میں موت دے اور مجھے مسکینوں کے گروہ سے ہی اُٹھانا۔ابن ماجہ کتاب الزهد بحالة الفقراء) 6- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دل کی سختی کی شکایت کی آپ نے فرمایا اگر تو دل کو نرم کرنا چاہتا ہے تو مسکین کو کھانا کھلا اور یتیم کے سر پر دست شفقت رکھ۔(مسند احمد باقی مسند المکثرین حدیث نمبر 7260) 7- آپ نے فرمایا کہ جو شخص رضائے الہی کی خاطر یتیم بچے کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرے گا اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال ہوں گے اسے ان کی تعداد کے مطابق نیکیاں حاصل ہوں گی۔(مسند احمد بن حنبل) 8 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ایک دفعہ میں نے یہ شعر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھا۔ترجمہ: -وہ سفید نورانی چہرے والا شخص جس کے منہ کا واسطہ دے کر بادل سے بارش طلب کی جاتی ہے تیموں کے لئے موسم بہار اور بیواؤں کی عزت کا محافظ ہے۔اس پر حضرت ابو بکر صدیق بے اختیار پکار اُٹھے بخدا وہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 7 مطبوعہ بیروت) 9۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کے گھروں میں سب سے بہترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور بد ترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ بُرا سلوک ہوتا ہے۔(ابن ماجہ ابواب الادب باب حق الیتیم) واقعہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن پہلے پہر ہم لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک پورا قبیلہ مسافر وار حاضر خدمت ہوا اس کی ظاہری حالت اس درجہ خراب تھی کہ کسی کے بدن پر کوئی کپڑا ثابت نہ تھا برہنہ تن برہنہ پا کھالیں بدن سے بندھی ہوئی تلوار میں گلوں میں پڑی ہوئی ان کی یہ حالت دیکھ کر آپ بے حد متاثر ہوئے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اضطراب میں آپ اندر گئے باہر آئے پھر حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا نماز کے بعد آپ نے خطبہ دیا اور تمام مسلمانوں کو ان کی امداد و اعانت کے لئے آمادہ کیا۔(صحیح مسلم ،صدقات)