حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 16 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 16

32 31 واقعہ (جامع ترندی کتاب الزهد حدیث نمبر (2227) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ میرے پاس استراحت فرما رہے تھے تو ایک پڑوس کی بکری آگئی اور جو روٹی میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پکا کر رکھی ہوئی تھی وہ اُٹھا کر چل پڑی۔میں اُس کے پیچھے بھاگی تاکہ اس کو مار کے بھگا دوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو پڑوسی کو اس کی بکری کی وجہ سے تکلیف نہ پہنچاؤ جو لے گئی ہے لے جانے دو۔واقعہ الادب مفرد ترمذى لايؤذى جاره حدیث 120) ( منقول از روز نامه الفضل 12 اپریل 2002) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص پڑوسی کی شکایت لے کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا جا صبر کر یہ شخص دو یا تین بار حضور ﷺ کی خدمت میں شکایت لے کر آیا تو پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو فرمایا کہ جا اور اپنا مال و متاع باہر رکھ دے یعنی اپنے گھر کا سامان سڑک پر لے آچنا نچہ اس نے اپنا مال رستے میں رکھ دیا اس پر لوگوں نے اس کے بارے میں پوچھا کہ تم اس طرح کیوں کر رہے ہو تو ان کو بتا تا رہا کہ کس وجہ سے ہو رہا ہے تب لوگوں نے ہمسایہ پر لعنت ملامت کی اور کہنے لگے اللہ اسے یوں کرے وغیرہ وغیرہ اس پر اس کا ہمسایہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا تو اپنے گھر میں واپس چلا جا اب تو مجھ سے کوئی ناپسندیدہ بات نہیں دیکھے گا۔واقعہ ترندی کتاب الزهد باب مثل الدنيا رابعة نفر) حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ ایک دفعہ حج سے فارغ ہو کر حرم میں سو گئے خواب میں دیکھتے ہیں کہ دو فرشتے آسمان سے آئے ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ اس سال کتنی خلقت حج کے لئے آئی دوسرے نے کہا کہ چھ لاکھ پھر پوچھا کتنے لوگوں کا حج قبول ہوا۔دوسرے نے جواب دیا کہ کسی کا حج قبول نہیں ہوا۔یہ سن کر آپ گھبرائے کہ اس قدر خلقت کی تمام سفر کی تکلیفیں اکارت گئیں۔اس کے بعد دوسرے فرشتے نے کہا دمشق میں ایک شخص علی بن موفق نامی موچی رہتا ہے اگر چہ وہ حج پر نہیں آیا لیکن اس کا حج قبول ہو گیا اور یہ خلقت ساری محض اس کے طفیل بخشی گئی یہ خواب دیکھ کر آپ جاگے اور دمشق میں جا کر علی بن موفق موچی کی زیارت کا ارادہ کر کے چل پڑے وہاں پہنچ کر اس کے گھر جا کر پکارا علیک سلیک کے بعد فرمایا کہ مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے اس نے کہا فرمائیے۔تب آپ نے سارا خواب کا واقعہ بیان کیا۔عبد اللہ مبارک کا سوال سنتے ہی وہ بیہوش ہو گیا جب ہوش آیا تو کہا کہ حج کے ارادے سے میں نے ساری عمر میں تمہیں ہزار درہم جمع کئے تھے حج کے لئے بالکل تیار تھا کہ ایک دن میری بیوی نے کہا ہمسائے کے گھر سے گوشت پکنے کی خوشبو آ رہی ہے ذرا سا لے آؤ۔چنانچہ میں ان کے گھر گیا اور تھوڑا سا سالن طلب کیا اس نے کہا یہ گوشت تم پر حلال نہیں کیونکہ سات دن کے فاقہ کے بعد بچوں کو بھوک سے بیتاب دیکھ کر آج تھوڑا سا مردار پکایا ہے یہ سُن کر میرے تن بدن میں آگ لگ گئی فوراً آکر تمہیں ہزار درہم لئے اور ہمسایہ کو دے دیے تا کہ وہ اپنے بال بچوں پر خرچ کرے یہ حالات سن کر آپ نے کہا واقعی فرشتوں نے