ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 46
اليومن 46 زہر کے بداثرات کے نتیجہ میں عموماً گہرے السر بنتے ہیں اور اگر پھوڑے بنیں تو ان پھوڑوں کے رفتہ رفتہ بگڑ کر کینسر بننے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔اسی طرح گلے اور زبان میں خصوصیت کے ساتھ یہ زہر حملہ کرتا ہے اور وہاں بھی السر یا کینسر پیدا کر دیتا ہے نیز اس کے نتیجہ میں گلینڈ ز سوج کر سخت ہونے لگتے ہیں۔ٹانسلز سوج کر رفتہ رفتہ بڑے اور سخت ہو جاتے ہیں۔عورتوں میں رحم اور سینے کے غدود اسی طرح موٹی موٹی سخت گٹھلیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔سلفر کی طرح سر کی چوٹی پر گرمی اور دباؤ کا احساس ہوتا ہے لیکن سلفر کا مریض ہاتھ کا دباؤ یا کپڑا لینا پسند نہیں کرتا جبکہ الیومن میں دباؤ کا احساس ہونے کے باوجود مریض کو بیرونی طور پر دبانے سے آرام محسوس ہوتا ہے۔الیومن میں عضلاتی کمزوریاں بھی بہت نمایاں ہیں۔اس پہلو سے یہ پلمبم (Plumbum) سے بہت مشابہ ہے۔خصوصاً دونوں کی فالجی علامتیں ایک دوسرے سے کافی حد تک مشابہت رکھتی ہیں۔پس جزوی طور پر الیومن پلمبم کی فاجی علامتوں کے مشابہ اثرات پیدا کرتی ہے۔الیومن کے یہ تمام زہریلے اثرات جن کا اوپر ذکر گزر چکا ہے ایلومینیم کی ہومیو پیتھک دوا سے شفایاب ہو سکتے ہیں۔قطع نظر اس کے کہ یہ بیماریاں کیوں پیدا ہوئیں۔اگر ان کی شکل الیومن سے ملتی ہو اور مریض کا عمومی مزاج بھی الیومن کی یاد دلاتا ہوتو یہ ساری بیماریاں اللہ کے فضل سے ایلومینیم کے مناسب استعمال سے دور ہوسکتی ہیں۔کچھ نسوانی بیماریوں کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ان کے علاوہ رحم کے اعصاب کا کمزور ہو کر نیچے کی طرف ڈھلک جانا بھی الیومن کی یاد دلاتا ہے۔اگر آواز مستقل طور پر بیٹھ جائے تو یہ بھی الیومن کی ایک نمایاں علامت ہے۔وقتی طور پر آواز بیٹھنے کے لئے بوریکس یا کو کا یا آرسنک استعمال ہوتے ہیں۔لیکن جب تک مریض کی دیگر علامتیں نہ ملتی ہوں محض آواز بیٹھنے کی علامت پر انحصار نہیں کرنا چاہئے۔گلے کی بیماریوں میں بھی وہی دوا مفید ثابت ہو گی جو مریض کی عمومی مزاجی دوا