ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 783 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 783

سلفر 783 گاؤٹ یعنی جوڑوں کی تکلیف میں بھی سلفر بہت مفید ہے۔بعض دفعہ سلفر کھانے سے گاؤٹ کی دبی ہوئی تکلیف جس کی موجودگی کا پہلے علم نہیں ہوتا ، ظاہر ہو جاتی ہے اور مریض خوفزدہ ہو کر اس کا استعمال چھوڑ دیتا ہے حالانکہ اگر سلفر سے گاؤٹ کی تکلیف ظاہر ہوتو وہی کچھ عرصہ تک دینے سے اس کا مؤثر علاج بھی ثابت ہوتی ہے۔اگر سلفر بند کر دیں تو یہ بیماری دب جائے گی اور پھر دوسری اندرونی بیماریوں کا پیش خیمہ ہوگی جو بآسانی قابو میں نہیں آسکتیں۔تپ دق اور پھیپھڑوں کی امراض میں سلفر میں سلیشیا کی طرح بہت محتاط ہو کر استعمال کرنی چاہئے کیونکہ یہ بھی پھیپھڑوں کو بہت طاقتور رد عمل کا حکم دیتی ہے اور اگر لمبی بیماری سے پھیپھڑے کمزور ہو چکے ہوں تو وہ سخت رد عمل کے نتیجہ میں پھٹ بھی سکتے ہیں۔سلفر تپ دق کے ان مادوں کو جو مختلف شکلوں میں خلیوں اور اندرونی پردوں میں لیٹے پڑے ہوتے ہیں باہر نکالتی ہے کیونکہ سلیشیا کی طرح اس کو بھی اجنبی چیزوں کی موجودگی نا پسند ہے۔سل کے کیڑے اگر زیادہ مقدار میں ہوں تو ان کا اپنی کمین گاہوں سے باہر نکلنا فائدہ کی بجائے مہلک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ سل کا مریض اپنی کمزوری کی وجہ سے ان کو مغلوب کرنے کی بجائے ان سے مغلوب ہو جاتا ہے۔سلیشیا بھی ہر اجنبی چیز کو چاہے وہ ریت کا ذرہ ہو یا اندر چھپی ہوئی بندوق کی گولی ہو یا شیشے کا ٹکڑا ہوضرور جسم سے باہر نکالنے کی کوشش کرتی ہے۔وہ جراثیم جو زندگی کو نقصان پہنچانے والے ہیں ان کے خلاف اتنا طاقتور رد عمل پیدا کرتی ہے کہ سل کے بعض مریض اس رد عمل کے نتیجہ میں مر بھی جاتے ہیں۔یہ ہومیو پیتھک معالج کا کام ہے کہ کمزور مریض کو اتنی زیادہ طاقت ور دوانہ دے کہ جسم اس سے نپٹ ہی نہ سکے۔مناسب یہی ہے کہ شروع میں دوا چھوٹی طاقت میں دی جائے۔اگر فائدہ ہوتو رفتہ رفتہ طاقت بڑھائیں نیز مریض کو مددگار دوائیں مثلاً سٹیم بھی دیں جو آہستہ آہستہ مریض کی دفاعی طاقت کو بڑھاتی ہے۔یہ نہ بھولیں کہ مزاج کے لحاظ سے سلفر گرم ہے اور سلیشیا ٹھنڈی۔کلکیر یا کارب سل کے فاسد مادوں کو باہر نکالنے کی بجائے ان کے گردانڈوں کے چھلکے کی طرح کیلشیم