ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 784
سلفر 784 کے خول چڑھا دیتی ہے جن کے اندر وہ قید ہو جاتے ہیں۔یادرکھیں کہ کلکیریا کارب دینے کے معاً بعد سلف نہیں دینی چاہئے ورنہ کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔اگر کلکیریا کے بعد سلفر دینے سے پہلے ایک دفعہ لائیکو پوڈیم دے دیں تو اس کے بعد سلفر دی جاسکتی ہے۔ہر پیز (Herpes) یا Shingals جو اعصابی ریشوں پر نکلنے والے چھالوں کی بیماری ہے ، اس میں سلفر بھی اچھا کام کرتی ہے۔صبح کے اسہال کا رجحان پایا جائے تو اس میں بھی سلفر مفید ہے لیکن ڈاکٹر کینٹ نے متنبہ کیا ہے کہ سلفر سے صبح کے اسہال روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔کیونکہ اگر اسہال رک گئے تو وہ پھیپھڑوں کی تکلیفوں کو بڑھا دیں گے جو خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔اگر سل کے مریض کو اسہال لاحق ہوں تو پہلے نرم دواؤں سے آہستہ آہستہ اسہال کا علاج کرنا چاہئے اور پھر تپ دق کے مرض کو جڑ سے اکھیڑ نے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔خسرہ میں بھی سلفر بہت اچھا کام کرتی ہے۔اگر جلن اور بے چینی بہت بڑھ جائے لیکن دانے باہر نہ نکلیں اور خدشہ ہو کہ بیماری اندرونی جھلیوں پر حملہ نہ کر دے تو سلفر کے علاوہ آرسنک بھی بہت کارآمد ہوتی ہے۔سلفر میں آرسنک جیسی بے چینی نہیں ہوتی۔ہاں جلن اور آگ کا احساس آرسنک سے مشابہ ہوتا ہے۔ٹیکوں کے بداثرات دور کرنے میں بھی سلفر اچھی دوا ہے۔اس کے علاوہ چند اور دوائیں بھی مفید ہیں۔سلفر کے مریض کو فلسفی بننے کا بہت شوق ہوتا ہے اور کچھ مزاجاً فلسفی ہوتے بھی ہیں۔اگر یہ شوق جنون کی حد تک بڑھ جائے تو اونچی طاقت میں سلفر کی ایک دو خوراکوں سے کافی فرق پڑ جاتا ہے۔ان میں بعض اقتصادی فلسفی ہوتے ہیں جو ہر وقت سکیمیں بناتے رہتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کرتے۔یہ اقتصادی فلسفی عملاً کوئی کام کر بیٹھیں تو اکثر اپنا سارا سرمایہ ڈبو بیٹھتے ہیں۔بہت ست مزاج ہوتے ہیں۔کسی کام میں ان کا دل نہیں لگتا۔اپنی سوچوں ہی میں مقید رہتے ہیں۔ان کا علاج بھی سلفر کی اونچی طاقت ہے۔