ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 782 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 782

سلفر 782 اور بہت خارش ہونے لگتی ہے جس کا علاج نکس وامیکا ہے۔بعض اوقات ٹانگوں میں نیلی وریدیں پھول کر جالا سا بنا دیتی ہوں جنہیں Varicose Veins کہتے ہیں۔وریدوں میں خون گاڑھا ہو کر جمنے لگتا ہے۔ہومیو پیتھی میں بہت سی ایسی دوائیں ہیں جن کے ذریعہ ان رگوں کی اصلاح ہو سکتی ہے۔سلفر انہی دواؤں میں سے ایک ہے۔سلفر عورتوں کے سن یاس میں بھی کام آتی ہے یعنی اس عمر میں جس میں عورتوں کا حیض بند ہورہا ہو۔اس دور میں عورتوں کے چہرے اور سر پر گرمی کی لہریں محسوس ہوتی ہیں۔بعض دفعہ دل پر بھی خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔اس کے لئے پلسٹیلا بھی استعمال کی جاتی ہے مگر مجھے اس میں اتنا فائدہ دکھائی نہیں دیا جتنی اس کی شہرت ہے۔البتہ اکیلی پلسٹیلا کی بجائے بیلا ڈونا ساتھ ملا کر دینا زیادہ مفید ہوتا ہے۔مگر سلفر کی علامتیں واضح ہوں تو سلفرا کیلی ہی کافی ہوتی ہے۔لیکیس کی طرح سلفر کی بیماریاں سونے کے بعد بڑھتی ہیں اور مریض گھبرا کر اٹھ جاتا ہے۔رات کے پچھلے پہر زیادہ گھبراہٹ ہوتی ہے۔سونے کے بعد بڑھنے والی تکلیف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی ہوتی ہے۔بیماری کے اثر سے جو اعصاب پر پڑتا ہے،مریض گھبرا کر اٹھتا ہے اور سخت بے سکون ہو جاتا ہے۔دن کو گیارہ بجے کے قریب یہ بے چینی معدہ میں ظاہر ہوتی ہے۔رات کو تکلیف بڑھتی ہے مگر بستر کی گرمی سے۔لیکیس کی طرح محض سونے سے تکلیف نہیں بڑھتی۔بعض دفعہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کے گرد لپٹی ہوئی جھلی (Placenta) کا کچھ حصہ رحم میں ہی رہ جاتا ہے اور پوری صفائی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے سخت تعفن والا ن والا بخار ہو جاتا ہے۔اس میں سلفر اور پائیر و جینیم (Pyrogenium) ملا کر دینے سے بہتر کوئی نسخہ نہیں۔اسی طرح نزلہ زکام کے ساتھ ہونے والا بخار جو عام روز مرہ کی دواؤں سے ٹھیک نہ ہو اس میں بھی سلفر 200 اور پائیرو نبینیم 200 ملا کر دینے سے افاقہ ہوتا ہے۔