ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 712
رسٹاکس 712 رسٹاکس کے سردرد کی کئی علامات بخار میں ہونے والے سردرد سے مشابہ ہوتی ہیں۔اگر کسی دوسری دوا کی علامتیں واضح ہوں تو وہی دوا دینی چاہئے۔اگر کسی دوا کی علامتیں واضح نہ ہوں تو بسا اوقات رسٹاکس مفید ثابت ہو سکتی ہے۔عموماً علامات میں سر بوجھل ہوتا ہے اور درد پیشانی سے شروع ہو کر سر کے پچھلی جانب گدی میں جاتا ہے۔رسٹاکس میں چہرے اور سر کی طرف خون کا دوران ہوتا ہے۔جلد دکھتی ہے اور سرخ اور متورم ہو جاتی ہے۔شدید کھجلی ہوتی ہے۔ایگزیما کے چھالوں پر کھرنڈ بن جاتے ہیں۔بچوں کے ایگزیما میں خصوصاً سر کا ایگزیمارسٹاکس کے زیر اثر آتا ہے لیکن بعض اوقات اس کا رد عمل بہت سخت ہوتا ہے۔اگر وہ چند دن کے اندر اندر ٹھیک ہو جائے تو پھر دوبارہ رسٹاکس دی جاتی ہے۔اگر ایگزیما ٹھیک نہ ہو تو پھر دوسری دوا ڈھونڈ نی بہت مشکل ہے۔جلد کی ایسی امراض میں جب یہ صورت پیدا ہو وہاں یا درکھنا چاہئے کہ وہ جلد کا کینسر بھی ہوسکتا ہے اور اس صورت میں کارسینوسن (Carsinocin) اور ریڈیم برو میٹم (Radium Bromitum) کو ہزار طاقت میں ہفتہ ہفتہ کے وقفہ سے ایک دو مہینے تک دے کر دیکھنا چاہئے۔اسی طرح گریفائٹس اور سور ائینم کو بھی ادل بدل کر دیا جائے تو بعض سخت ضدی ایگزیموں میں بھی یہ مفید ثابت ہوا ہے۔رسٹاکس آنکھوں کی انفیکشن میں بھی بہت مفید ہے جبکہ آنکھیں سرخ ہو جائیں اور پیپ پڑ جائے۔خاص طور پر اگر مرطوب موسم میں آنکھوں کی تکلیفیں زیادہ ہوں تو یہ بہت کارآمد ہے۔آنکھ کی حرکت یا آنکھ پر دباؤ پڑنے سے تکلیف بڑھتی ہے اور بہت گرم پانی نکلتا ہے۔منہ میں زخم اور چھالے بن جائیں اور سرخ رنگ کی کچی کچھی سطح نظر آئے اور رسٹاکس بالمثل دوا ہو تو اس میں بھی اچھا کام کرے گی۔منہ کی تکلیفوں میں اس کی خاص پہچان یہ ہے کہ منہ میں دھات کا سا مزہ آنے لگتا ہے جیسے بیٹری کے سیل کو زبان لگائی جائے تو مجیب سا احساس ہوتا ہے۔زبان سرخ اور زخمی ہی ہو جاتی ہے۔منہ اور