ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 711
رسٹاکس 711 بچوں کے فالج (Infantile Paralysis) میں رسٹاکس بہت اچھا اثر دکھاتی ہے۔بچے کو بخار ہوتا ہے اور اس کے بعد آہستہ آہستہ فالجی اثرات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔اگر کسی کو بہت بچپن میں فالج ہو چکا ہو یا ٹانگ کا کوئی حصہ کمزور ہونے لگے تو فوری طور پر رسٹاکس شروع کروانی چاہئے۔اسے سلفر سے ادل بدل کر دیں تو بہتر اثر ہوتا ہے۔سلفر از خود بھی فالجی امراض میں بہت مفید ہے اس لئے دونوں مل کر بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔پولیو کے بعض بہت پرانے مریض اس نسخہ سے خدا کے فضل سے بالکل شفایاب ہو گئے۔وقتی طور پر جسم کا کوئی حصہ سو جائے تو وہ اور بات ہے، کچھ عرصہ کے بعد یہ کیفیت خود ہی جاتی رہتی ہے۔لیکن اگر فالجی کمزوری محسوس ہو تو پھر رسٹاکس فورا دینی چاہئے جو اکثر کام کرتی ہے۔رفتہ رفتہ بڑھنے والے فالج جو زیادہ لمبا عرصہ تک رہنے والے اور گہرے ہوتے ہیں ان میں کاسٹیکم بھی ایک اہم دوا ہے۔کاسٹیکم کوصرف فوری طور پر ظاہر ہونے والے فالج کی دوا نہیں سمجھنا چاہئے۔کاسٹیکم کا فالج کچھ دن پہلے سردی لگنے کے نتیجہ میں اندر ہی اندر شروع ہو چکا ہوتا ہے۔لیکن جب ظاہر ہوتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے اچانک ہوا ہے۔جزوی فالج میں جس کا تعلق محض چند عضلات سے ہو کا سٹیکم لا جواب دوا ہے، خصوصاً چہرے کے دائیں طرف کے فالج میں تو اس کا کوئی بدل نہیں۔سالہا سال کے بعد بھی اگر شروع کروائی جائے تو چند مہینے کے استعمال کے بعد اگر وہ پرانا فالج مکمل طور پر دور نہ بھی ہو تو اس میں بہت حد تک نرمی پیدا ہو جاتی ہے۔اسے عرف عام میں لقوہ کہا جاتا ہے اور کاسٹیکم کو زیادہ تر لقوہ ہی کی دوا سمجھا جاتا ہے۔رسٹاکس کا فالج عموماً دائیں طرف ہوتا ہے لیکن یہ محض دائیں طرف کی تکلیفوں کی دوا نہیں ہے۔بائیں طرف بھی کام آتی ہے مگر بائیں طرف کی اس سے زیادہ مؤثر دوائیں لیکیسس اور لیڈم ہیں جو آرنیکا کے ساتھ مل کر خوب کام دکھاتی ہیں۔اگر ان کے ساتھ کیڈمیم سلف (Cadmium Sulph)30 میں روزانہ تین بار دی جائے تو اور بھی مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔اگر اس نسخہ سے کوئی فائدہ نہ ہو تو اسے چھوڑ کر سلفر اور رسٹاکس ادل بدل کر دے کر دیکھیں۔