ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 713 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 713

رسٹاکس 713 ٹھوڑی کے ارد گرد آبلے بن جاتے ہیں۔حلق کے غدودسوج جاتے ہیں اور گلے میں سوزش ہوتی ہے۔چھالے پڑ جاتے ہیں۔خوراک نگلنی بہت مشکل ہوتی ہے۔رسٹاکس خوراک کی نالی کی اس قسم کی انفیکشن (Oesphagus) میں بہت مفید ہے۔ٹائیفائیڈ میں بھی رسٹاکس کارآمد ہے۔اس میں بخار سر کو چڑھتا ہے، ہوا سے پیٹ میں گڑ گڑاہٹ پیدا ہوتی ہے اور بہت تناؤ ہو جاتا ہے۔ڈکار نہ باہر آتا ہے نہ نیچے اترتا ہے۔ہوا کے اخراج کے دونوں راستے تنگ ہو کر سکڑ جاتے ہیں۔یہ بہت تکلیف دہ چیز ہے۔رسٹاکس اس کے لئے اچھی دوا ہے۔اس کے علاوہ کو چیک بھی مفید ہے۔اگر ضرورت سے زیادہ بوجھ اٹھانے کی وجہ سے رحم میں نیچے گرنے کا رجحان پیدا ہوتو رسٹاکس بہترین دوا ہے۔لیکن اس کا اثر صرف رحم تک محدود نہیں ، ہر عضلہ جسے زیادہ بوجھ اٹھانے سے نقصان پہنچا ہواس میں رسٹاکس اور ملی فولیم کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔رسٹاکس کی ایک اور علامت یہ ہے کہ مریض کے گلے کی خرابی کی وجہ سے آواز بیٹھی ہوئی لگتی ہے۔جب وہ بولنا شروع کرے تو ٹھیک ہو جاتی ہے اور جتنا بولے آواز صاف ہوتی چلی جاتی ہے۔اگر ایسے مریض کئی کئی گھنٹے بھی لگا تار لیکچر دیں تو آواز ٹھیک رہے گی لیکن بعد میں اس کا رد عمل ظاہر ہوگا۔رسٹاکس کی کھانسی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔نرخرے میں ہمہ وقت خارش ہوتی رہتی ہے۔رسٹاکس سے جلد فرق پڑتا ہے۔دل کے عضلات ڈھیلے پڑ جائیں ، دل پھیل کر بڑا ہو جائے اور اپنے فعل میں کمزور ہونے لگے تو رسٹاکس اس تکلیف میں بہت مؤثر ہے۔اگر کھلاڑیوں کا دل پھیل جائے تو ان کے لئے رسٹاکس ہی بہترین دوا ہے۔دل کی کمزوری یا بیماری کی وجہ سے بائیں بازو میں سن ہونے کا احساس اور بڑھتی ہوئی فالجی کیفیت پیدا ہو تو اس میں بھی رسٹاکس چوٹی کی دوا ہے۔کچھ دن لیکیس اور آرنیکا دیں اور اگر فائدہ نہ ہو تو رسٹاکس کی کچھ خوراکیں دیں پھر دوبار لیکلیس اور آرنیکا شروع کر دیں۔