ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 580
میر 580 مشابہت رکھتی ہیں۔اگر سل کے مریض میں خون کی کمی کی وجہ سے سر میں درد ہو تو ایسے سردرد میں بھی میگینم مفید ہو سکتی ہے۔اس میں دردیں سوئی کی چھن کی طرح ہوتی ہیں جیسے کسی نے ٹانکہ بھر دیا ہو۔نیز سر کی جلد میں سرخ رنگ کے داغ بن جاتے ہیں اور ان جگہوں میں درد ہوتا ہے۔آنکھ کے چھپر اور پردوں میں سوزش ہوتی ہے۔روشنی سے زود حسی پائی جاتی ہے۔قریب کی چیزیں دیکھنے سے آنکھوں میں درد ہوتا ہے۔اس وجہ سے کتاب نزدیک رکھ کر پڑھنے یا سلائی کا کام کرنے سے آنکھیں دکھنے لگتی ہیں۔یہ علامت روٹا (Ruta) سے ملتی جلتی ہے۔میگینم میں کانوں سے بد بودار مواد نکلتا ہے۔اس بیماری میں امونیم کا رب بھی بہت نمایاں مقام رکھتی ہے۔مینگینم میں کانوں میں بھاری پن پیدا ہو جاتا ہے لیکن یہ کیفیت مستقل نہیں ہوتی۔ناک صاف کرنے سے جب ہوا کا دباؤ پڑتا ہے تو وقتی طور پر شنوائی ٹھیک ہو جاتی ہے۔کان کے بیرونی حصہ کو ہاتھ لگانے سے درد ہوتا ہے نزلہ، زکام اور گلے کی خرابی کان پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اور کان میں درد ہوتا ہے۔حتی کہ دانتوں کا درد بھی کانوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔پس وہ نزلاتی بیماریاں جن کے نتیجہ میں کان مسلسل بھاری رہنے لگیں اور قوت شنوائی متاثر ہو ان میں مینگینم کو نہیں بھولنا چاہئے۔سرد اور بھیگے ہوئے موسم میں بغیر کسی انفیکشن کے بھی شنوائی متاثر ہوتی ہو اور مریض اونچا سننے لگے، اگر اس کے ساتھ کان میں خارش ہو اور دبانے سے گلے میں بھی شروع ہو جائے اور چھینکیں میں بھی آئیں تو مینگینم سے افاقہ ہوسکتا ہے۔عموماً یہ علامتیں بھیگے ہوئے ٹھنڈے موسم میں بڑھتی ہیں۔چہرہ بالکل پھیکا ، بے رونق اور زرد ہو جاتا ہے۔ایسے چہرہ میں میٹینم بہت نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔بخار کے ساتھ پھوڑے نکلیں تو بھی مینگینم مفید ہے۔معدے کی ہر قسم کی تکلیفوں میں کام آتی ہے۔خصوصاً اگر بھوک مٹ جائے اور کھانے پینے کی خواہش بالکل ختم ہو جائے تو اسے بحال کر دیتی ہے۔اس کے پیٹ درد میں آگے جھکنے سے آرام آتا