ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 581 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 581

581 ہے۔یہ کولو سنتھ (Colocynthis) کی بھی علامت ہے۔اس کے مریض میں معدے کی کوئی نہ کوئی تکلیف ضرور رہتی ہے۔قبض ہوگی یا اسہال لگ جائیں گے یا پیچش ہو جائے گی۔معتدل حالت نہیں رہتی۔عورتوں کو حیض کے ختم ہونے کے زمانے میں یا ویسے ہی خون کی کمی سے چہرہ پر تمتما ہٹ اور گرم ہوا کے جھونکے محسوس ہوتے ہیں۔اس میں سلفر، گریفائٹس اور لیکیسس وغیرہ بھی کام کرتی ہیں لیکن میکنیم بھی اچھی دوا ہے۔جگر میں چربی بڑھنے کے رجحان کو بھی مینگینم روکتی ہے۔یرقان اور پتے کی پتھریوں میں بھی مفید ہے۔ناف کے نیچے ہلکا سا کھچاؤ محسوس ہوتا ہے۔اگر یہ شدید ہو تو یہ پلیم کی علامت ہوتی ہے۔اگر گلا صاف کرنے کے لئے بار بار کھنکارنا پڑے تو میگیم مفید ہوسکتی ہے۔سی علامت اور بھی بہت سی دواؤں میں ملتی ہے۔مثلا ودھیا (Wythia)، ارجنٹم میٹ ، سلیشیا، فاسفورس وغیرہ۔میگیم میں اس کی دیگر تکلیفوں کی طرح کھانسی بھی لیٹنے کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔بائیو کس میں اس سے بالکل بر عکس علامت ملتی ہے یعنی لیٹنے پر کھانسی شروع ہو جاتی ہے۔وہ بچیاں جو بہت زودحس ہوں ان میں یہ علامت بہت نمایاں ہوتی ہے۔ارجنٹم مٹیلیکم میں بھی لیٹنے سے کھانسی کو آرام آتا ہے۔بولنے اور بننے سے بڑھنے والی کھانسی میں مینٹینم سے زیادہ فاسفورس مفید ہے۔وہ مریض جو رفتہ رفتہ کمزور ہور ہے ہوں ان کی طاقت کو بحال کرنے کے لئے بھی میگیم کارآمد ہے۔ٹھنڈے مرطوب موسم میں اور طوفان آنے سے پہلے مینکینم کی تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔دافع اثر دوائیں کافیا۔مرکزی طاقت: 30 سے 200 تک