ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 579
579 کر ہوتا ہے۔یہاں تک کہ یہی بڑھتی ہوئی بیماری بالآخر پھیپھڑوں میں دبے ہوئے سل کے مادے کو ابھار دیتی ہے۔مینلینم سے بر وقت ایسے مریض کا علاج بعد میں پیدا ہونے والی سنگین پیچیدگیوں سے بچالیتا ہے۔مینگینم کے مریض کے زخم اور ناسور ٹھیک نہیں ہوتے اور مسلسل ہرے رہتے ہیں۔یہ کیفیت جزوی کینسر کی ہے اگر اسے زبردستی ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ پورے کینسر میں تبدیل ہو سکتی ہے۔اس کے مریض کو معمولی سالمس بھی سخت تکلیف دیتا ہے۔اگر چلنے سے ہڈیوں میں درد ہو اور آرنیکا، برائیونیاسے فائدہ نہ ہوتو میکنیم فائدہ دیتی ہے۔یہان دواؤں کی نسبت زیادہ گہرا اثر رکھتی ہے۔اسی طرح میکینم میں پٹیشیا سے ملتی جلتی در دیں ہوتی ہیں جو معدے کی خرابی اور ٹائیفائیڈ کے تعفن سے پیدا ہوتی ہیں۔اگر پیٹیشیا کچھ فائدہ دے کر چھوڑ دے تو میکینم کو یادرکھنا چاہئے۔مینٹیم میں گہری اداسی پائی جاتی ہے۔جس کے ساتھ یہ احساس ہوتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے۔عورتیں اکثر اس غم میں مبتلا رہتی ہیں۔اپنے عزیزوں کے متعلق تو ہمات کا شکار رہتی ہیں۔اگر دینی علامات بڑھ جائیں تو سوچنے سمجھنے کی طاقت ماؤف ہونے لگتی ہے۔کسی بات کا شعور نہیں رہتا۔بینائی کم ہو جاتی ہے۔مینشینم ان علامات کو دور کرنے کے علاوہ مریض کی دوسری بیماریوں میں بھی اچھا اثر دکھائے گی۔میگینم میں حرکت سے اور چلنے پھرنے سے تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں لیکن بیٹھنے سے بھی آرام نہیں آتا۔ہاں اگر مریض لیٹ جائے تو سب تکلیفیں یوں ختم ہو جاتی ہیں گویا تھیں ہی نہیں۔وہ عورتیں جو موٹاپے کا شکار ہوں۔ہر وقت جسم میں دردیں ہوں اور وہ ہر وقت لیٹی رہیں ان کی دوا میگیم بھی ہوسکتی ہے بشرطیکہ اس کی دوسری اہم علامتیں موجود ہوں۔بعض دفعہ بیٹھے بیٹھے گھبراہٹ کی وجہ سے حرکت کرنے اور چلنے پھرنے کو دل چاہتا ہے لیکن چلنے پھرنے سے دردوں کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔اس علامت میں آرسنک اور رسٹاکس کا خیال آ سکتا ہے مگر ان دونوں کی علامتیں بالکل مختلف ہیں۔سل کی علامتوں میں ارجنٹم مٹیلیکم، فاسفورس اور گریفائٹس کی علامتیں مینگینم سے