ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 578
578 بجائے اس کے کہ حیض جاری کرنے والی دوا دی جائے مینگینم دینی چاہئے کیونکہ ایسے مریض میں خون کی شدید کمی ہوتی ہے اس لئے حیض کا خون جاری کرنے والی دوا سے رہا سہا خون بھی نکل جائے گا۔میرا تجربہ ہے کہ علامات کے مطابق صحیح دوا دی جائے تو حیض کا خون جاری ہونے کی بجائے کچھ عرصہ کے لئے رک جاتا ہے لیکن کئی مہینے حیض بند رہنے کے بعد جب جسم میں خون کی کمی پوری ہو جائے اور طاقت آ جائے تو پھر حیض نارمل ہو جائے گا۔اگر خون کی کمی نہ ہونے کے باوجود حیض بند ہو جائے تو بندش حیض کی دوسری دوائیں سوچنی چاہئیں۔ایسے مریض جن کی پنڈلیوں میں اینٹھن ہوتی ہے۔ٹانگوں کے پلوں میں بھی محسوس ہوتی ہے اور ٹانگیں بے حس ہو جاتی ہیں۔ان کی پنڈلیوں کے سامنے کی ہڈی کی دکھن میں مینگینم بہت مفید دوا ہے۔مینگینم میں جلدی علامتیں بھی ملتی ہیں۔زخموں اور ناسور کے کنارے موٹے ہو جاتے ہیں۔اکثر زخم لمبا عرصہ چلتے ہیں اور ٹھیک نہیں ہوتے۔سورائسس (Psorisis) میں بھی اسے مفید بتایا گیا ہے۔اگر سورائس یعنی چنبل دب چکا ہو تو مینلینم سے فائدے کی صورت میں پہلے بہت زور سے جلد پر ابھرے گا اور لمبا عرصہ وقفہ وقفہ سے استعمال کے نتیجہ میں کم ہونا شروع ہو جائے گا۔لہذا میگینم دینے کے بعد سورائس یعنی چنبل ظاہر ہو تو گھبرانا نہیں چاہئے۔ڈاکٹر کینٹ اس بات کے سخت خلاف تھے کہ سورائس کو دواؤں سے دبا دیا جائے کیونکہ اس کے نتیجہ میں انتڑیوں میں یا کسی اور عضو میں کینسر ہوسکتا ہے۔ان کے اکثر بیانات درست ہوتے ہیں اس لئے بعید نہیں کہ یہ بھی درست ہو میںکیم میں سورائس کی علامات فاسفورس اور ڈ کا مارا سے ملتی ہیں۔میگیم کے زہر سے خون کے ذرات اور خون کے خلیے متاثر ہو جاتے ہیں۔نرخرہ (Larynx) یعنی سانس کے لوچ دار چھلوں پر مشتمل نالی جو گلے سے شروع ہو کر نیچے پھیپھڑوں کی جانب اترتی ہے اور گلے میں اس کے اندر آواز پیدا کرنے کا آلہ ہوتا ہے، مینگینم میں اس کے اندر ورم پیدا کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے جس کا ہر حملہ پہلے سے بڑھ